Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 36 of 115

9۔خلیفہ بن عبدہ کہتے ہیں ، میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا کہ جاہلیت میں تمہارے باپ نے تمہارا نام محمد کیسے رکھا؟ اس نے جواب میں کہا، میں نے اپنے والد سے اس کا سبب پوچھا تھا تو انہوں نے کہا، بنی تمیم سے ہم چار آدمی ملک شام گئے۔ وہاں ایک راہب نے ہمیں پوچھا، تم کون ہو؟ ہم نے کہا، ہم اولادِ مضر میں سے ہیں۔اس راہب نے کہا، عنقریب تم میں ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے۔ تم اس کی طرف دوڑنا اور اس کی خدمت واطاعت کرنا، وہ سب سے آخری نبی ہے۔

ہم نے پوچھا، اس کا نام کیا ہوگا؟ اس نے کہا، محمد جب ہم اپنے گھروں کو واپس آئے تو سب کے ایک ایک لڑکا پیدا ہوا اور سب نے اپنے اپنے لڑکے کا نام محمد رکھا۔

10۔حضرت مغیرہ بن شعبہ سے طویل روایت میں ہے کہ وہ مصر کے بادشاہ مقوقس کے پاس گئے تواس نے کہا، ’’محمد نبی ورسول ہیں ۔ اگر وہ مصر یا روم میں ہوتے تو سب ان کی پیروی کرتے‘‘۔ پھر میں سکندریہ کے ہر پادری کے پاس گیا تاکہ حضرت محمد کی صفات جو اُن کی کتابوں میں ہیں ، جان سکوں۔ وہاں کے سب سے بڑے پادری سے میں نے پوچھا، کیا کوئی نبی آنا باقی ہے؟ اس نے کہا، ہاں! وہ سب سے آخری نبی ہیں، ان کے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی پیروی کا حکم ہے۔ وہ نبی اُمّی عربی ہیں۔ ان کا نام پاک احمد ہے۔

11۔حضرت حسان بن ثابت سے روایت ہے کہ میں سات سال کا تھا۔ ایک رات میں نے دیکھا کہ مدینے کے ایک بلند ٹیلے پر ایک یہودی ہاتھ میں آگ کا شعلہ لئے چیخ رہا ہے۔اس کی پکار پر لوگ جمع ہو گئے۔وہ بولا، دیکھو!یہ احمد کا ستارا طلوع ہوچکا ، اور یہ ستارا کسی نبی ہی کی پیدائش پر طلوع ہوتا ہے۔اور اب انبیاء میں سوائے احمد کے کوئی اور نبی باقی نہیں یعنی وہ آخری نبی ہیں۔

12۔حضرت حویصر بن مسعود سے روایت ہے کہ بچپن میں ہم یہود سے ایک نبی کا ذکر سنتے تھے۔ یہود کہتے تھے کہ وہ نبی مکے میں مبعوث ہونگے، ان کا نام احمد ہے اور اب اُن کے سوا کوئی نبی باقی نہیں۔

13۔حضرت سعد بن ثابت سے مروی ہے کہ یہود کے علماء سید عالم کی صفات بیان کرتے تھے۔ جب سرخ ستارہ چمکا تو انہوں نے کہا کہ وہ نبی کی پیدائش کا ستارہ ہے اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں، ان کا اسم گرامی احمد ہے،اور ان کی ہجرت گاہ مدینہ ہے۔

14۔اُمُّ المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب حضور قبا تشریف لائے تو میرے والد اور چچا سحر کے وقت ان کے پاس گئے۔ رات کے وقت وہ واپس آئے تو میں نے دیکھا کہ وہ نہایت بوجھل اور افسردہ ہیں۔ میرے چچا نے میرے والد سے کہا، کیا یہ وہی آخری نبی ہیں جن کی صفات ہم توریت میں پڑھتے ہیں؟

میرے والد نے کہا، ہاں یہ وہی ہیں۔ پھر میرے چچا نے پوچھا ، کیا تمہیں پورا یقین ہے کہ یہ وہی ہیں؟ میرے والد نے کہا، خدا کی قسم ! میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ وہی نبی ہیں۔ پھر میرے چچا نے کہا، پھر تمہارے دل میں اُن کے لئے کیا ہے، محبت یا عداوت؟ میرے والد نے کہا، عداوت۔ جب تک میں زندہ ہوں ان کی عداوت میں کوشاں رہوں گا۔(معاذ اللہ)

علامہ ابن کثیر رقمطراز ہیں کہ حضور کی تشریف آوری سے قبل یہود آپ کے وسیلے سے کفار ومشرکین پر فتح کی دعا مانگا کرتے اور اُن سے کہتے، عنقریب وہ آخر ُ الزَّماں نبی ظاہر ہونگے تو ہم اُن کے ساتھ مل کر تمہارا نام و نشان مٹا دیں گے۔

 

Share:
keyboard_arrow_up