ارشادِ ربانی ہے،
{وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖ فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ}
’’اور اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے، تو جب تشریف لایا اُن کے پاس وہ جانا پہچانا، اس سے منکر ہو بیٹھے، تو اللّٰہ کی لعنت منکروں پر‘‘۔
15۔حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہود کفار کے خلاف فتح کے لئے یہ دعا مانگتے تھے، اے اللّٰہ! اُس نبی کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جن کا ذکر توریت میں ہے،جن کے لئے تیرا وعدہ ہے کہ تو اُنہیں آخری زمانے میں مبعوث فرمائے گا ۔
دراصل ان کا گمان یہ تھاکہ وہ آخری نبی، بنی اسرائیل میں سے ہوگا مگر جب حضور بنی اسماعیل میں سے مبعوث ہوئے تو وہ حسد کی وجہ سے کافرومنکر ہوگئے۔
16۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب طائف کے بادشاہ تبع حمیری نے مدینہ پر لشکر کشی کی تو اُس وقت یہود کے سب سے بڑے عالم سامول نے اسے کہا، یہ وہ شہر ہے جس کی طرف آخری نبی ’’احمد‘‘ ہجرت کریں گے۔وہ مکہ میں پیدا ہونگے ، پھر ہجرت کرکے یہاں آئیں گے اور ان کی قبرِ انور بھی یہیں ہوگی۔
محمد بن اسحاق، کتاب المغازی میں لکھتے ہیں کہ تبع نے نبی آخر الزماں کے لئے ایک عالیشان مکان تعمیر کرایا۔چار سو علماء کو وہاں آباد کیا۔ پھر ایک خط لکھ کر اپنے اسلام لانے کی گواہی دی، اور وہ خط ان میں سے سب سے بڑے عالم کے سپرد کر دیا اور وصیت کی کہ اگر وہ آخری نبی کو پائے تو یہ خط ان کی خدمت میں پیش کردے ورنہ اپنی اولادوں کو یہ خط پہنچانے کی وصیت کرتا رہے۔ اسی عالم کی اولاد میں سے حضرت ابوایوب انصاری تھے جنہوں نے وہ خط بارگاہ نبوی میں پیش کیا۔ اور غالباً اسی لئے ہجرت کے وقت نبی کریم کی اونٹنی کو رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے مکان پر ٹھہرنے کا حکم ہوا ۔ یہ وہی مکان تھا جو تبع بادشاہ نے آپ کے لئے بنایا تھا۔
17۔حضرت زیاد بن لبید سے روایت ہے کہ میں مدینہ طیبہ کے ایک ٹیلے پر تھا کہ میں نے اچانک یہ آواز سنی، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا، ’’ اے اہلِ مدینہ! خدا کی قسم! بنی اسرائیل سے نبوت چلی گئی۔ ولادتِ احمد کا ستارا چمک گیا، وہ سب سے آخری نبی ہیں، وہ مدینے کی طرف ہجرت کریں گے‘‘۔
18۔ حضرت عامر بن ربیعہ سے طویل روایت میں ہے کہ زید بن عمرو نے مجھ سے فرمایا، میں ایک نبی کا منتظر ہوں جن کا نام احمد ہے، جو بنی اسماعیل سے ہوں گے۔ پھر حضور کی کئی نشانیاں بیان کر کے فرمایا، میں دینِ ابراہیمی کی تلاش میں شہر شہر پھرا ہوں اور یہودی، عیسائی ، مجوسی جس سے میں نے پوچھا ، سب نے اس نبی کی یہی نشانیاں بتائیں۔اور اُس نبی کے سوا اور کوئی نبی باقی نہیں رہا۔
19۔ حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ میں زمانۂ جاہلیت میں تجارت کے لئے ملک شام گیا۔ وہاں اہلِ کتاب میں سے ایک شخص ملا اور کہا، کیا تمہارے ہاں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟ میں نے کہا، ہاں۔ وہ بولا، کیا تم ان کی تصویر دیکھو گے تو انہیں پہچان لو گے؟ میں نے کہا، ہاں۔ وہ مجھے ایسے کمرے میں لے گیا جہاں کئی تصویریں تھیں، ان میں حضور کی تصویر نظر نہ آئی۔ اسی دوران ایک اور شخص وہاں آیااور اس نے سارا ماجرا پوچھا۔ ہم نے اسے بتایا۔ تو وہ شخص ہمیں اپنے گھر لے گیا۔ اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی مجھے آقا کریم کی تصویر نظر آئی جس میں ایک آدمی آپ کے قدم مبارک تھامے ہوئے ہے
۔میں نے پوچھا، یہ کون ہے جوقدم مبارک تھامے ہوئے ہے۔ اُس نے کہا، {اِنَّہٗ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ اِلاَّ کَانَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ اِلاَّ ہٰذَا فَاِنَّہٗ لاَ نَبِیَّ بَعْدَہٗ وَہٰذَا الْخَلِیْفَۃُ بَعْدَہٗ}

