Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 38 of 115

’’اس سے پہلے ایک نبی جاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا، مگر یہ نبی سب سے آخری ہیں، ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ جو شخص ان کے قدم تھامے ہوئے ہے وہ ان کے بعد خلیفہ ہوگا‘‘۔ پھرمیں نے دیکھا تو وہ ابوبکر صدیق کی تصویر تھی۔

20۔ایک طویل روایت میں ہے کہ حضرت ابوامامہ باہلی، ہشام بن عاص اور دیگر صحابہ کرام دورِ صدیقی میں جب بادشاہِ روم ، ہرقل کے پاس گئے تو اس نے ایک صندوق منگوایا جس میں کئی چھوٹے چھوٹے بند خانے تھے۔اس نے ایک خانہ کھول کر اس میں سے ایک ریشمی کپڑا نکالا جس پر ایک سرخ تصویر بنی تھی۔ ہرقل بولا، انہیں پہچانتے ہو؟ صحابہ فرماتے ہیں، ہم نے کہا، نہیں۔ وہ بولا، یہ آدم علیہ السلام ہیں۔ پھر اس نے مختلف خانوں سے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کی تصاویر نکال کر دکھائیں پھر ایک اور خانہ کھول کر اس میں سے سبز ریشمی کپڑا نکال کر بولا، انہیں پہچانتے ہو؟ہم نے دیکھا تو وہ ہمارے آقا ومولیٰ سیدنا محمد مصطفیٰ کی تصویر تھی۔ ہم رونے لگے اور کہا، یہ ہمارے آقا محمد ہیں۔ وہ بولا، تمہیں اپنے دین کی قسم! کیا یہ محمد ہیں؟

ہم نے کہا، ہمیں اپنے دین کی قسم ! بیشک یہ سیدنا محمدکی تصویر ہے۔ یہ سنتے ہی وہ بے حواس ہوگیا اور دیر تک دم بخود رہا پھر بولا، یہ خانہ سب خانوں کے بعد تھا۔ اگر میں ترتیب وار دکھاتا تو ممکن تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر کے بعد جو تصویر تم دیکھتے تو خواہ مخواہ کہہ دیتے کہ یہ ہمارے نبی کی تصویر ہے۔اسی لئے میں نے اسے ترتیب کے خلاف پیش کیا تاکہ اگر یہ وہی نبی ہیں تو تم ضرور پہچان لو گے۔ اور حمد اللّٰہ تعالیٰ ایسا ہی ہوا۔

یہاں تک حدیث لکھ کر اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں،

’’ہمارا مطلب تو یہیں پورا ہو گیا کہ یہ خانہ سب خانوں کے بعد ہے‘‘ یعنی ہمارے نبی سب نبیوں میں سے آخری نبی ہیں۔یہ حدیث صحیح ہے۔

مذکورہ حدیث میں مزید انبیاء کرام کا بھی ذکر ہے اور آخر میں ہے کہ صحابہ نے پوچھا، یہ تصاویر کہاں سے آئیں؟ اس پر ہرقل نے کہا، ’’آدم علیہ السلام  نے عرض کی تھی، الٰہی ! مجھے میری اولاد میں سے انبیاء دکھا دے۔ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر انبیاء کرام کی تصاویر نازل کیں‘‘۔ وہ تصاویر حضرت دانیال علیہ السلام تک پہنچیں اور انہوں نے ریشمی کپڑوں پر یہ تصاویر اتاردیں۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوگیا کہ سابقہ آسمانی کتب میں بھی واضح طور پرمذکورتھا کہ سیدنا محمد مصطفی احمد مجتبیٰ سب نبیوں میں آخری نبی ہیں لہٰذا آپ کے بعد کسی نئے نبی کا آنا ہرگز ممکن نہیں۔

ختمِ نبوت اور اجماعِ صحابہ: عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق کی خلافت کے بعد جس کام پر تمام صحابہ کرام نے سب سے پہلے اجماع کیا ، وہ ختمِ نبوت کے منکرین کے خلاف جہاد تھا۔

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ معظم کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب مدینہ منورہ آیا اور کہنے لگا، اگر محمد مجھے اپنے بعد خلیفہ بنالیں تو میں آپ کی اتباع کر لوں گا۔

آقا ومولیٰ کے دستِ اقدس میں کھجور کی ایک شاخ تھی۔ آپ نے فرمایا، اگر تو مجھ سے یہ ایک شاخ بھی مانگے تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا۔ میں تجھے وہی دیکھ رہا ہوں جو مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے۔

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ آقا ومولیٰ نے ارشاد فرمایا، میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے کنگن دیکھے۔ یہ دیکھ کر مجھے فکر لاحق ہوئی تو خواب میں مجھے وحی ہوئی کہ ان دونوں کو پھونک مارو۔جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ دونوں اُڑ گئے۔میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ میرے بعد دو جھوٹے کذاب نکلیں گے ایک اسود عنسی اور دوسرا مسیلمہ ۔

Share:
keyboard_arrow_up