مسیلمہ کذاب نے نبی کریم اکو ایک خط بھی لکھاجس میں اس نے لکھا، ’’یہ خط اللّٰہ کے رسول مسیلمہ کی طرف سے محمد رسول اللّٰہ کے نام ہے، آپ پر سلام ہو۔ اس معاملہ یعنی نبوت میں مجھے آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہے‘‘۔ حضور نے اس کے جواب میں ایک خط لکھوایا جس کے آغازمیں تحریر تھا،
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ من محمد رسول اللّٰہ الیٰ مسیلمۃ الکذاب۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ مسیلمہ کذاب ہمارے آقا خاتم الانبیاء کی نبوت کا منکر نہیں تھا۔ اس کے علاقے میں دیگر مسلمانوں کی طرح شعائرِ اسلام خصوصاً اذان اور باجماعت نماز کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا تھا۔بلکہ اس کا حکم تھا کہ اذان میں اشہد ان محمدا رسول اللّٰہ کو زیادہ بلند آواز سے کہا جائے۔
ان تمام باتوں کے باوجود سیدنا ابوبکر صدیق نے مسیلمہ اور اس کے متبعین کو مرتد قرار دیا اور انہیں جہنم میں پہنچانے کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دی۔ وجہ صرف یہ تھی کہ وہ ختمِ نبوت کے عقیدے کے خلاف ایک نیا نبی تسلیم کررہے تھے۔قادیانیوں کو اس مسئلہ پرتعصب چھوڑ کر غور و فکر کرنا چاہیے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ رحمتِ عالم کے دس سالہ مدنی دور میں غزوات اور سرایا ملا کر کل 74 جنگیں ہوئیں جن میں کل 259صحابہ شہید ہوئے جبکہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جو ’’جنگ یمامہ‘‘ لڑی گئی وہ اس قدر خون ریز تھی کہ صرف اس ایک جنگ میں بارہ سو صحابہ شہید ہوئے جن میں سات سو حفاظ صحابہ بھی شامل ہیں۔ نیز اس جنگ میں دس ہزار مرتد قتل کئے گئے۔
حضرت وحشی فرماتے ہیں کہ میں نے کفر کی حالت میں لوگوں میں سے بہترین شخص حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا پھر اسلام لاکر لوگوں میں سے بدترین شخص مسیلمہ کذاب کو قتل کرکے اس کی تلافی کردی۔
نبوت کے جھوٹے دعویداروں کا انجام: نبوت کا دوسرا مشہور مدعی یمن کا اسود عنسی تھا جو دراصل ایک شعبدہ باز، مکار اور کاہن تھا۔اپنے قبیلے کے لوگوں کی مدد سے وہ یمن اور گردونواح پر قابض ہوگیا۔ نبی کریم نے اس فتنے کو ختم کرنے کا حکم دیا تو حضرت فیروز دیلمی نے اس کے محل میں گھس کر اسے قتل کردیا۔ اس کذاب کے قتل کی خبر لے کرجب قاصد مدینہ منورہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ آقا ومولیٰ اس ظاہری دنیا سے پردہ فرما گئے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اپنے حبیب کو اسود عنسی کے قتل کی خبر دے دی تھی اور آپ نے صحابہ سے فرمادیا تھا،فاز فیروز۔ ’’فیروز کامیاب ہوگیا‘‘۔
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس رات اسود عنسی کو قتل کیا گیا، آقا کریم کو وحی کے ذریعے مطلع فرما دیا گیا۔آپ نے ارشاد فرمایا، ’’گذشتہ رات اسود عنسی کو قتل کردیا گیا، اسے مبارک گھر والوں میں سے ایک مبارک شخص نے قتل کیا ہے‘‘۔ عرض کی گئی، وہ کون ہے؟ فرمایا، فیروز دیلمی۔
اسی طرح سیدنا صدیقِ اکبر کے عہد میں خالد بن ولید نے مدعی ٔ نبوت طلیحہ کے پیروکاروں کو تہ تیغ کیا۔طلیحہ شکست کے بعد فرار ہوگیا۔ سیدنا عمر کے دور میں اس نے توبہ کی اوردوبارہ مسلمان ہوا۔ بعد ازاں مختار ثقفی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ وہ ۶۷ ھ میں حضرت مصعب بن زبیر سے لڑائی میں قتل ہوا۔
حارث دمشقی نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، وہ ۶۹ھ میں خلیفہ عبدالملک بن مروان کے حکم سے قتل کیا گیا۔
کوفہ میں بیان بن سمعان تمیمی نے ۹۶ھ میں اور مغیرہ بن سعید عجلی نے ۱۱۹ ھ میں نبوت کے جھوٹے دعوے کئے اور ان دونوں کو امیر عراق، خالد بن عبداللّٰہ قسری نے زندہ جلا کر راکھ کردیا۔

