Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 40 of 115

عباسی خلیفہ ابوجعفرمنصورکے دور میں اسحاق اخرس مراکشی (۱۳۵ھ) اور استاد سیس خراسانی(۱۵۴ھ) نے بھی نبوت کے جھوٹے دعوے کئے اوردونوں خلیفہ کی فوج سے مقابلے میں ہلاک ہوئے۔

علی بن محمد خارجی نے خلیفہ معتمد باللّٰہ کے زمانے میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ ۲۰۷ھ میں اسلامی فوج نے اس کے لشکر کو شکست دی اور اس کا سر کاٹ کر نیزے پر چڑھایا۔

یونہی بابک بن عبداللّٰہ نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور ۲۲۲ھ میں خلیفہ معتصم باللّٰہ کے حکم سے اس کا ایک ایک عضو کاٹ کر اسے قتل کیا گیا۔ علی بن فضل یمنی نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ ۳۰۳ ھ میں بغداد کے لوگوں نے اسے زہر دے کر واصلِ جہنم کیا۔

عبد العزیز باسندی بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے مسیلمہ کذاب کا جانشیں بنا اور ۳۲۲ھ میں اسلامی لشکر سے مقابلے میں قتل ہوا۔

اس کے بعد حامیم مجلسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور وہ ۳۲۹ھ میں احواز  کے مقام پر ایک لڑائی میں قتل کیاگیا۔

پھر ابومنصور عسمی برغواطی نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیااور وہ ۳۶۹ھ میں بلکین بن زہری سے جنگ میں قتل ہوا۔

ان جھوٹے مدعیان نبوت کے بعد۴۴۲ھ میں بہافریزنیشا پوری نے نبوت کا جھوٹادعویٰ کیا جسے ابومسلم خراسانی نے اپنی تلوار سے جہنم رسید کیا۔

اصغر تغلبی اور احمد بن قسی نے بھی یکے بعد دیگرے نبوت کے جھوٹے دعویٰ کئے تو انہیں حکام نے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا اور یہ قید ہی میں ہلاک ہوئے۔

پھر عبدالحق مرسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔۶۶۸ھ میں ایک روز اس نے فصد کھلوایا تو خدا کے قہر وغضب میں مبتلا ہوگیا۔ اس کا خون بند ہی نہ ہوا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا

۔۷۱۷ھ میں عبد العزیز نامی ملعون نے طرابلس میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو اسلامی لشکر  نے اسے گرفتار کر کے قتل کردیا۔

بعد ازاں بہاء اللّٰہ (م۱۳۰۸ھ ) اور مرزا غلام احمد قادیانی (م۱۳۲۶ھ) نے بھی نبوت کے جھوٹے دعوے کئے مگرکفار کی سرپرستی، مسلمانوں کے کمزور ایمان اورباہمی انتشار کی وجہ سے یہ ملعون گرفتاری یاقتل کئے جانے سے محفوظ رہے مگر اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب میں ایسے مبتلا ہوئے کہ دنیا ہی میں ذلیل ورسوا ہوگئے اور آخرت میں ان کے لئے جہنم کی آگ ہے۔

 باب چہارم ختمِ نبوت کے عقلی دلائل:

1۔ نئے نبی کی ضرورت کیوں؟ تاریخِ انبیاء کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دو وجوہات ایسی ہیں جن کی بناء پر ایک نبی کے بعد دوسرے نبی کے  آنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

اول یہ کہ کسی نبی کی شریعت کی تعلیم ادھوری رہ گئی ہو تو اس کی تکمیکل کے لئے کوئی دوسرا نبی بھیج دیا جاتا ہے۔

دوم یہ کہ کسی نبی کی تعلیمات میں تحریف کر دی گئی ہو تو دوسرا نبی بھیج دیا جاتا ہے جو لوگوں کو دین کی صحیح تعلیم سے آگاہ  کرتا ہے۔  نبی کریم کی تعلیم وتبلیغ کے بعد دین کا کوئی شعبہ غیرمکمل نہیں رہا کہ جس کی تکمیل کے لئے کسی دوسرے نبی کو بھیجنے کی ضرورت پیش آئے۔

فرمانِ الٰہی ہے،

{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا}

’’ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا‘‘۔

جب دین کامل ہوگیااور نعمت پوری کر دی گئی تو پھر کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔ اب اگر کوئی نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو گویا وہ اس آیت کاانکار کرتا ہے اور امام الانبیاء کی نبوت کو ناقص اور قرآن مجید کو نامکمل سمجھتا ہے اور ایسا شخص یقینا دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up