Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 41 of 115

مزید یہ کہ آقا ومولیٰ کی تعلیمات میں کسی قسم کی کوئی تحریف بھی نہیں ہوئی اور نہ ہی قیامت تک ہوگی کہ جس کی تصحیح کے لئے کسی نئے نبی کوبھیجنے کی ضرورت پیش آئے۔

قرآن مجید ہمیشہ تحریف سے محفوظ رہے گا کیونکہ اس کی حفاظت کا اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے وعدہ فرمایا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،

{اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ}

’’بے شک ہم نے اُتارا ہے یہ قرآن، اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں‘‘۔

چودہ سو سال سے زائد عرصہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ آج تک قرآن کریم میں کسی ایک لفظ یا حرف بلکہ کسی زیر زبر پیش کی بھی تبدیلی نہیں ہوئی۔

پس ثابت ہوا کہ حضور کے دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے باوجود مذکورہ دونوں وجوہات میں سے کوئی ایک وجہ بھی نہ پائی گئی کہ جس کے سبب کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت ہو۔

2۔ نبی پر ایمان، دین کا معیار: ہر زمانے میں نبی کی ذات کفر واسلام کی کسوٹی ہوا کرتی ہے۔ جو نبی پر ایمان لائے وہ مسلمان، اور جو نبی کا انکار کرے وہ کافر ہوتا ہے۔دنیا میں اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے۔ یہ تمام مسلمان توحید ورسالت اوردیگر ضروریاتِ دین پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہر زمانہ میں بیشمار مسلمان ایسے ضرور ہوتے ہیں جو دینی احکام پر مکمل طور پر عمل کرتے ہیں اور تقوی کے مقام پر فائز ہوتے ہیں۔

اب قادیانی فتنے کا تجزیہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی اور اس کے چیلوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود گنتی کے افراد نے اسے نبی مانا جبکہ ساری امت نے اسے کذاب اور دجال کہا۔ گویا مرزا کی آمدایسی نحوست کا باعث بنی کہ بقول مرزاکے ،دنیا کے تمام مسلمان مرزا کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر قرار پائے اور چند سو مرزائی مسلمان، اور وہ بھی اکثر بے نماز،بےریش،آوارہ اور بدکردار ۔ کوئی انصاف پسندعقل مند یہ نہیں کہہ سکتا کہ گنتی کے بدکرداراور مفاد پرست انگریز ایجنٹوں کو مسلمان کہا جائے اور شمعِ رسالت کے لاتعداد پروانوں، پرہیزگاروں اور نمازیوں کو کافر قرار دے دیا جائے اور وہ بھی اس بات پر کہ وہ قرآن وحدیث کے منکر اور انگریزوں کے پروردہ مرزا کذاب ککی جھوٹی نبوت کو نہیں مانتے۔

3۔ خاتم الانبیاء آفتاب، انبیاء ستارے: امام الانبیاء آسمانِ نبوت کے آفتاب ہیں اورانبیاء کرام ستارے۔

ارشادہوا،

{یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًاo وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا}

’’اے غیب کی خبریں بتانے والے! بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر وناظر، اور خوشخبری دیتااور ڈرسناتا، اور اللّٰہ کی طرف اُس کے حکم سے بلاتا، اور چمکا دینے والا آفتاب(بنا کر) ‘‘۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ نے ’’سراج‘‘ کا ترجمہ ’’آفتاب‘‘ دیگر آیات کے مطابق کیا ہے۔

مثلاً :{وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا} ’’اور بنایا آفتاب کو سراج‘‘۔

امام بوصیری رحمہ اللّٰہ اپنے مشہورِ زمانہ قصیدہ بُردہ شریف میں فرماتے ہیں،

فَاِنَّہٗ شَمْسُ فَضْلٍ ہُمْ کَوَاکِبُہَا یُظْہِرْنَ اَنْوَارُہَا لِلنَّاسِ فِی الظُّلَمٖ

’’رحمتِ عالم فضیلت کے آفتاب ہیں اور تمام انبیاء ان کے ستارے ہیں۔ یہ ستارے اندھیروں میں لوگوں کے لئے اُسی آفتابِ نبوت کا نور ظاہر کرتے ہیں‘‘۔

 

Share:
keyboard_arrow_up