وَکُلُّہُمْ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ مُلْتَمِسٌ غَرْفًا مِنَ الْبَحْرِ اَوْ رَشْفًا مِنَ الدِّیَمٖ
’’اور تمام انبیاء ، رسولُ اللہ سے فیض کے طالب ہیں اور فیض لیتے ہیں، خواہ وہ سمندر میں سے ایک چُلّو کے برابر ہو یا بارش میں سے ایک بوند کے برابر ‘‘۔
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن مجید اور علماء نے آقا ومولیٰ کو آفتاب قرار دیا ہے تو اب غور کیجیے کہ جب آسمان پر ستارے چمکتے ہیں ،اُس وقت آفتاب ظاہر نہیں ہوتا مگر ستارے اُسی سے نور لے کر چمک رہے ہوتے ہیں۔گویا وہ رات بھر آفتاب کے طلوع ہونے کی نوید سناتے ہیں اور خود بھی آفتاب نکلنے کے منتظر رہتے ہیں۔
پھر جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو ستارے فنا نہیں ہوتے، بلکہ اپنی اپنی جگہ آب و تاب کے ساتھ ہونے کے باوجود آفتاب کے عظیم نورمیں چھپ جاتے ہیں۔
لہٰذا یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ آفتابِ محمدی کے طلوع ہونے سے قبل سب انبیاء کرام آپ کے نور سے فیض پاکر چمکتے رہے، آپ کے آنے کی خوشخبری سناتے رہے اور پھر جب آپ تشریف لے آئے تو آپ کا نور اُن کے نور پر غالب آ گیا۔
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ نے خوب فرمایا،
بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں
شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبی
کیا خبر کتنے تارے کِھلے چھپ گئے
پر نہ ڈوبے نہ ڈوبا ہمارا نبی
ماننا پڑے گا کہ آفتابِ محمدی کے چمکنے کے بعد اب قیامت تک نہ کسی کی نبوت کا ستارا چمک سکتا ہے اور نہ ہی آفتاب کے ہوتے کسی ستارے کی روشنی کی ضرورت ہے۔ پس خاتم الانبیاء کے بعد اب کسی نئے نبی کا آنا ممکن نہیں۔
قادیانیوں سے چند عقلی سوالات: مرزائی اس بات پرتو مسلمانوں کے ساتھ متفق ہیں کہ نبی کریم کے بعد کوئی مستقل نبی نہیں آسکتا۔ البتہ ان کا کفریہ دعویٰ یہ ہے کہ غیر مستقل یا ظلی نبی آسکتا ہے اور وہ مرزا ہے۔اس پر مرزائیوں سے چند باتیں جواب طلب ہیں۔
4۔ نبوت کی اقسام کا ثبوت: مسئلہ چونکہ ایمان اورعقیدہ کا ہے اس لئے مرزائیوں پر لازم ہے کہ وہ محض اپنی رائے یا باطل خیال کو دلیل بنانے کی بجائے کوئی ایسی آیت یاکوئی صحیح حدیث پیش کریں جس میں واضح طور پر موجود ہو کہ حضور کے بعد کوئی مستقل نبی تو نہیں آسکتا البتہ غیر مستقل نبی آ سکتا ہے، یا ظلی یا بروزی نبی آسکتا ہے، اور ایسی دلیل لانا قطعی طور پر ناممکن ہے۔بلکہ قادیانی ، قرآن و حدیث میں ظلی اور بروزی نبوت کی تقسیم ہی دکھا دیں،اور یہ بھی ناممکن ہے۔
تو پھرخدائے قہار کا یہ فرمان پڑھ لیں۔
{فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ}
’’پھر اگر نہ لاسکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہرگز نہ لاسکو گے تو ڈرو اُس آگ سے، جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، تیار رکھی ہے کافروں کے لئے‘‘۔
5۔ غیر تشریعی نبی کا معیار: غیر مستقل یا غیر تشریعی نبوت ملنے کا معیار واہلیت (Criteria)کیا ہے؟ اور یہ معیار قرآن عظیم میں یا احادیث صحیحہ میں کہاں بیان ہوا ہے؟
پھر یہ بھی بتائیں کہ صحابہ کرام اس معیار پر پورے اترے یا نہیں؟ اگر مذکورہ معیار واہلیت صحابہ کرام میں تھی تو پھر انہیں نبوت کیوں نہیں ملی؟ اور اگر کوئی کہے کہ ان میں اہلیت نہیں تھی تو یہ بات احادیثِ رسول اور اجماعِ امت کے خلاف ہے کیونکہ ساری امت کا اجماع ہے کہ صحابہ کرام تمام امت سے افضل ہیں۔
اگر بالفرضِ محال تمہاری بات مانی جائے تو غیر صحابی کا صحابہ کرام سے افضل ہونا لازم آتا ہے جو کہ باطل اور مردود ہے۔ صحابہ کرام کی تو بڑی اعلیٰ شان ہے،
سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ اور دیگر تابعین وتبع تابعین، پھر سرکار غوثِ اعظم، حضرت داتا گنج بخش، خواجہ غریب نواز، مجدد الف ثانی رحمہم اللّٰہ تعالیٰ جیسے اولیاء وصالحین کی جوتیوں کی خاک کے مقام کو بھی مرزا جیسا انگریز ایجنٹ نہیں پہنچ سکتا۔

