Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 43 of 115

کوئی ذی ہوش اور عقل مند اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا کہ مرزا قادیانی میں کوئی ایسی خوبی ہوسکتی ہے جس سے سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق جیسے امت کے افضل ترین حضرات محروم رہے۔(معاذ اللہ)

حقیقت یہ ہے کہ مرزا کا کردار ملاحظہ کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص نبی ہونا تو درکنار ایک عام مسلمان بلکہ ایک نارمل انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔

جھوٹ کا پلندہ، لالچ کا مجسمہ، جہالت کا پیکر،بزدل، وعدہ خلاف، مخالفین کو گندی گالیاں دینے والا بلکہ انبیاء کے لئے غلیظ زبان استعمال کرنے والا، نفس پرست، انگریز ایجنٹ، ننگ ملت، ننگِ دیں، ننگِ وطن،خلاصہ یہ کہ انگریز کا بندہ سراپا گندہ۔

ایک بات اور واضح کردوں کہ اگر بالفرض مرزا کذاب میں ان میں سے کوئی عیب نہ ہوتا ، بالفرض وہ حسنِ اخلاق کا پیکر ہوتا، سچائی کا مجسمہ ہوتا، ایسا متقی ہوتا کہ ساری عمر عشاء کے وضو سے نمازِ فجر پڑھتا اور سارا سال روزے رکھتا،ایسا مفسرِ قرآن ہوتا کہ امام رازی اور علامہ آلوسی جیسے اس کے سامنے   زانو ئے ادب طے کرتے، ایسا محدثِ کبیر ہوتا کہ امام بیہقی اور امام سیوطی جیسے اُس کے شاگرد ہوتے، فلسفے کا امام ہوتا اور امام غزالی اور ابنِ رُشد اُس کے طفلِ مکتب ہوتے، عقل ودانائی کی دولت سے ایسا مالا مال ہوتا کہ بوعلی سینا اور افلاطون اس کی نوکری کرتے، صاحبِ کرامات ولی ہوتا، ہوا میں اُڑتا اور مردے زندہ کردکھاتا، پھر بھی اگر وہ نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم مان لیتے؟ ہرگز نہیں۔

اس لئے کہ ختمِ نبوت کا تاج ہمارے آقا ومولیٰ کے سرِ اقدس پر سجایا جا چکا، وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا، خاتم النبیین کا منصب امام الانبیاء کو دیا جاچکا، نبوت ورسالت کا محل مکمل ہوچکا، اب نہ کوئی مستقل نبی آسکتا ہے نہ غیر مستقل، نہ کوئی ظلی نبی آسکتا ہے نہ بروزی، نہ تشریعی نہ غیر تشریعی۔

6۔ عظیم مبلغ کون؟ مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا  نے اتنے عیسائی مسلمان کئے۔ بات یہ ہے کہ اگرچند عیسائیوں کو کلمہ پڑھانے کی وجہ سے تم مرزا کو نبی مانتے ہو تو پھرصحابہ کرام بلکہ ان اولیاء اللّٰہ کے متعلق کیا خیال ہے جنہوں نے لاکھوں کافروں کو کلمہ پڑھایا۔

سیدنا غوثِ اعظم عبدالقادر جیلانی رحمہ اللّٰہ، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللّٰہ اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمہ اللّٰہ کی تبلیغی کاوشیں اہلِ علم سے پوشیدہ نہیں۔

پھر اس قدر عظیم تبلیغ کے باوجود کسی صحابی نے یا کسی تابعی نے یا کسی ولی اللّٰہ نے نہ کبھی مہدی ہونے کا دعویٰ کیا نہ نبوت کا، بلکہ ہر ایک نے آقا کریم کا غلام ہونے کو ہی اپنے لئے اعزاز سمجھا۔ پھر مرزا کا دعوی ٔ نبوت چہ معنی دارد۔

7۔ نبوت، نعمت و رحمت: قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت تو نعمت اور رحمت ہے۔ تم لوگ ختمِ نبوت کے عقیدہ کی وجہ سے اس امت کو رحمت سے کیوں محروم کرتے ہو۔

جواباً عرض ہے، بیشک نبوت اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت ہے۔ پہلے انبیاء مختلف قوموں کی طرف بھیجے گئے، وہ سب اپنی اپنی امتوں کے لئے رحمت تھے۔ آخر میں رحمن کی رحمت نے چاہا کہ اپنی رحمت کودرجۂ کمال تک پہنچا دیا جائے اور کائنات کو عالمگیر رحمت سے نوازا جائے۔

چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول کی ذاتِ اقدس پر اپنی اس نعمت کو مکمل فرما دیا اور انہیں سارے جہانوں کے لئے مجسم رحمت اور خاتم النبیین بنا کر بھیج دیا۔

عقل کابھی یہی تقاضا ہے کہ اگر چھوٹے چھوٹے کئی چراغوں کی بجائے ایک بہت بڑی روشنی کا انتظام کردیا جائے جس کی مقدار تمام چراغوں کی روشنی سے زیادہ ہو تو اس عظیم روشنی کا انتظام لوگوں کے لئے رحمت ہوگا، بالکل اسی طرح جیسے سورج نکلنے پر بیشمار ستارے غائب ہوجاتے ہیں تو سورج کا طلوع ہونا رحمت ہوتا ہے نہ یہ کہ کوئی ستاروں کے غائب ہونے کو رحمت کے منافی قرار دے۔

Share:
keyboard_arrow_up