ختم نبوت کا عقیدہ امت کو رحمت سے محروم نہیں کرتا بلکہ رحمۃُ اللعالمین کی رحمت کے سائے میں جگہ دیتا ہے۔
اب اگر ہم اپنی طرف سے نبی بنانے لگیں گے تو یہ نعمت اور رحمت نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے قہر و غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔
اگر مرزائیوں کے بقول غیر مستقل نبوت منقطع نہیں ہوئی تو پھر وہ بتائیں کہ خاتم النبیین سید عالم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد چودہ صدیوں میں کون سا نبی آیا؟اگر آیا ہے تو اس کا نام بتائیں۔ اگر کوئی نہیں آیا تو پھر کیا وجہ تھی کہ نبوت منقطع نہ ہونے کے باوجود چودہ سو سال تک لوگ اس عظیم نعمت سے محروم رکھے گئے؟
8۔ افضلیت کا معیار کیا ؟ قادیانی، مرزا کذاب کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ایک بھونڈی دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں تو ایک ایک رسول کے کئی کئی امتی نبی ہوئے ہیں پھر ہمارے رسول کا ایک امتی، نبی کیوں نہیں ہوسکتا۔ کیا حضور کا مقام بنی اسرائیل کے رسولوں سے اوراس امت کا درجہ بنی اسرائیل سے کم تر ہے؟
بات یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی خاص نعمت ’’نبوت ‘‘ کو تمام نہیں فرمایا تھا اس لئے ان میں نبی آتے رہے جبکہ اس امت کے لئے رب تعالیٰ نے دین کو کامل اور نبوت کو تمام فرما دیا۔{وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ} پھر سوال یہ ہے کہ تمہیں کس نے بتایا کہ بنی اسرائیل میں کئی نبی آئے۔ تم کہو گے، قرآن نے۔ تو پھر اسی قرآن نے ہمیں یہ بتایا ہے، {کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ} تم بہترین امت ہو۔ اور یہ بھی بتایا ہے کہ {وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ}تمہارے رسول کا مقام تمام رسولوں سے درجوں بلندہے۔اور یہ بھی بتایا ہے کہ وہ {خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} سب سے آخری نبی ہیں۔تو پھر قرآن پر ایمان لاؤ کہ امام الانبیاء سب رسولوں سے افضل اور آخری نبی ہیں اور آپ کی امت سب امتوں سے افضل ہے۔ افضلیت کا معیار وہ نہیں جو تم اپنی ناقص عقل سے گھڑ لو بلکہ افضلیت کا معیار وہ ہے جو اللّٰہ اور اس کے رسول بیان فرما دیں۔ ورنہ تو تم کہو گے، بنی اسرائیل پر من و سلویٰ اُترا تھا صحابہ پر کیوں نہ اترا حالانکہ انہوں نے تو غزوۂ خندق کے موقع پر پیٹ پر پتھر باندھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد کے لئے دو نبی تھے، حضور کی مدد کے لئے دو نبی کیوں نہ بنائے گئے۔ پھر بنی اسرائیل میں انبیاء کی تعداد کم وبیش ستر ہزار تھی، اب تم بتاؤ! اس امت میں کتنے انبیاء آنے چاہیے تھے؟؟
اللّٰہ تعالیٰ سمجھ عطا کرے۔ بات یہ ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بعض عذر کی بناء پر ہارون علیہ السلام کو اپنا مددگار بنانے کی درخواست کی تھی جیسا کہ سورۃ طٰہٰ اور سورۃ الشعراء میں ہے۔جبکہ ہمارے آقا و مولیٰ کمالاتِ نبوت کے انتہائی اعلیٰ درجہ پر فائز کئے گئے اور آپ کو ضرورت ہی نہ ہوئی کہ آپ کے ساتھ یا آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث کیا جائے۔
حق یہ ہے کہ امام الانبیاء کا آخری نبی ہونا آپ کے فضل و کمال کی دلیل اور بہت بڑی عظمت ہے۔ اور یہ بھی آپ کی فضیلت ہے کہ آپ کی امت کے علماء و اولیاء آپ کی خلافت ونیابت کے طور پر تبلیغ دین اور کلمۂ حق بلند کرنے کا فریضہ ہر دور میں انجام دے رہے ہیں ۔بیشک علماءِ حق، انبیاء کے وارث ہیں۔
9۔ اُمتِ محمدی کی کثرت: غیب بتانے والے آقا ومولیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے،’’اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں سے اَسّی صفیں اِس امت کی ہونگی اور چالیس صفیں باقی تمام امتوں کی ہوں گی‘‘۔
اب قادیانی بتائیں کہ مرزا کذاب کے امتی کتنے ہیں اور خاتم الانبیاء کے امتی کتنے ہیں؟اگرمرزائی صرف اسی حدیث پر غور کرلیں اور تعصب چھوڑ کر حقیقت کا تجزیہ کریں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدنا محمد مصطفیٰ کی امت کی کثرت سمندر کی مثل ہے تواس کے سامنے مرزائی جماعت ایک قطرہ کی مانند۔اللّٰہ تعالیٰ حق کو سمجھنے اور ماننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

