Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 45 of 115

10۔ حضور جامع کمالات: مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ نبی کریم تمام انبیاء کرام کے فضائل وکمالات کے جامع ہیں اور آخری نبی ہیں۔لکھا ہے، ’’خدا نے اُس ذاتِ مقدس پروحی اور رسالت کو ختم کیا کہ سب کمالات اُس وجودِ باجود پر ختم ہوگئے‘‘۔

بات سمجھنے کے لئے دنیاوی مثال لیجیے۔کسی بھی چیز کی ابتدا سے اس کے درجۂ کمال تک پہنچنے کے لئے ارتقاء اور تدریج فطری امر ہے۔جب کوئی کمپنی مصنوعات کا آغاز کرتی ہے تو اس کی آخری صنعت (Product)اس کی تمام سابقہ مصنوعات کی جامع اور اس کی تمام تر صلاحیتوں کامظہر ہوتی ہے۔

نیز اس میں نئی خوبیاں پیدا کرکے اسے بہترین شاہکار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بلاتشبیہ، رب تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے بعد اپنی بہترین مخلوق انسان کو تخلیق فرمایا۔ پھر انسانوں کی تمام خوبیاں اور کمالات انبیاء کی مقدس ذوات میں سمو دیے۔ اور پھر تمام انبیاء کرام کے جملہ کمالات خاتم الانبیاء کی ذات اقدس میں جمع فرما دیے۔ نبوت کے تمام کمالات اور رسالت کے تمام اوصاف کا جامع بنا کر رب تعالیٰ نے اپنی اس شاہکار تخلیق کو سب نبیوں کے آخر میں مبعوث فرمایا۔ اگر خاتم الانبیاء کے بعدبالفرض کسی نئے نبی کا آنا مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امام الانبیاء کے کمالاتِ نبوت (معاذ اللہ) نامکمل یا ناقص تھے یا پھر آپ کی ذات ِ بابرکات میں کوئی خوبی اور کوئی کمال باقی رہ گیا تھا جسے لوگوں پر ظاہر کرنے کے لئے کسی نئے نبی کو بھیجنے کی ضرورت تھی۔معاذ اللہ

ہم قادیانیوں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جب مرزا قادیانی نے خود اقرار کیا تھا کہ حضور جامع کمالات ہیں اور اس بناء پر ان پر وحی اور رسالت ختم کردی گئی تو چند سالوں بعد کن وجوہ کے سبب مرزا نے خود نبوت کا دعویٰ کیا؟

نیز جب مرزا دجال نے جامع کمالات ہونے کی بناء پر حضورکو آخری نبی مانا تھا تو پھر بعد میں حضور کے کس فضل وکمال میں (معاذ اللہ) کوئی کمی واقع ہوگئی تھی کہ جس کی وجہ سے مرزا کو نبوت کا دعویٰ کرنا پڑا؟

پھر قادیانیوں کویہ بھی بتانا پڑے گا کہ وہ کون سا کمال ہے جو جانِ کائنات کی ذاتِ اقدس میں نہیں ہے اور وہ کمال مرزا کذاب میں ہے؟؟

حق یہی ہے کہ حبیبِ کبریاء کا جامع کمالاتِ نبوت ورسالت ہونا ہی آپ  کے آخری نبی ہونے کی روشن دلیل ہے۔

11۔ مرزا کذاب کا اعتراف: مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے خوداس حقیقت کا اعتراف کیا تھا کہ رسولِ معظم کے بعد اور کوئی نبی نہیں آسکتا۔ نیز آپ کے بعد وحی کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے منقطع ہوچکا ہے۔

مرزا قادیانی کی درج ذیل تحریریں ملاحظہ کیجیے۔ ’’پھر رسول اللّٰہ کے بعد کوئی بھی نبی نہیں آسکتا کیونکہ آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور کوئی قرآن کو اس کی تکمیل کے بعد منسوخ نہیں کرسکتا‘‘۔

’’{وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} یہ آیت بھی صاف دلالت کرتی ہے کہ بعد ہمارے نبی کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا اور اب وحی و رسالت تاقیامت منقطع ہے‘‘۔

’’اور اللّٰہ کو شایان نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے، اور نہ یہ شایان ہے کہ سلسلۂ نبوت کو دوبارہ اَزسرِنو شروع کر دے بعد اس کے کہ اسے قطع کرچکا ہو‘‘۔

مرزا نے ’’حمامۃ البشریٰ‘‘ ۱۸۹۳ء میں لکھی اور ۱۹۰۱ ء میں نبی ہونے کا دعویٰ کردیا۔ اب قادیانیوں سے سوال یہ ہے کہ جب مرزا  نے خود اقرار کیاتھا کہ خاتم النبیین کے بعد کسی اور نبی کا آنا قرآن کو منسوخ قرار دینا ہے جو یقینی کفر ہے تو اس تحریر کے آٹھ سال بعد جب مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا توکیا اُس نے قرآن کو منسوخ قرار دے کر خود اپنے کفر پر مہر نہیں لگا دی؟

Share:
keyboard_arrow_up