Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 8 of 115

اب قادیانی مصنف ابو العطا جالندھری کی اس عبارت کی ایک ایک سطر خوب غور سے پڑھیے اور ذہن و فکر کے تہہ خانے میں اتر کر چھپی ہوئی سازشوں کا سراغ لگائیے۔

”یوں محسوس ہوتا ہے کہ چونکہ چودھویں صدی کے سر پر آنے والا مجد د امام مہدی اور مسیح موعود بھی تھا اور اسے امتی نبوت کے مقام سے سرفراز کیا جانے والا تھا، اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی خاص مصلحت سے حضرت مولوی محمد قاسم صاحب کو خاتمیت محمد کے اصل مفہوم کی طرف وضاحت کے لیے راہنمائی فرمائی اور آپ نے اپنی کتابوں اور اپنے بیانات میں آن حضرت کے خاتم النبیین ہونے کی نہایت دلکش تشریح فرمائی۔ بلاشبہ آپ کی کتاب ” تحذیر الناس“ اس موضوع پر خاص اہمیت رکھتی ہے“۔ (افادات قاسمیہ ص امطبوعہ ربوہ پاکستان )

نانوتوی نے اپنی کتاب ” تحذیر الناس“ میں اس بات کی بھر پور کوشش کی ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے یعنی خاتم النبیین کے لفظ کا انکار بھی نہ ہو اور نئے نبی کی آمد کے لیے راستہ بھی ہموار ہو جائے ۔ تاکہ انگریزوں کا حق نمک بھی ادا ہو جائے اور مسلمانوں کو بھی دھوکے میں رکھ سکیں کہ ہم لوگ ختمِ نبوت کے منکر نہیں ہیں۔

ایک قادیانی مصنف کی زبانی اس پُر فریب سازش کا حال سنیے۔

جب احمدی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور کلمہ شہادت پر یقین رکھتے ہیں تو یہ کیون کر ہو سکتا ہے کہ وہ ختم نبوت کے منکر ہوں اور رسول کریم کو خاتم النبیین نہ مانیں قرآن کریم پر ایمان رکھنے والا آدمی اس آیت کا انکار کس طرح کر سکتا ہے۔

پس احمدیوں کا ہر گز یہ عقیدہ نہیں ہے کہ رسولِ کریم نعوذ باللّٰہ خاتم النبیین نہیں تھے۔ جو کچھ احمدی کہتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ خاتم النبیین کے وہ معنی جو اس وقت مسلمانوں میں رائج ہیں نہ تو قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت پر چسپاں ہوتے ہیں اور نہ ان سے رسول کریم کی عزت اور شان اس طرح ظاہر ہوتی ہے جس عزت اور شان کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ (پیغام1حدیت ص 10)

اس عبارت میں خط کشیدہ سطروں کو پھر ایک بار غور سے پڑھیے کہ بحث کا یہی حصہ سازشوں کی بنیاد ہے۔ یہیں سے لفظ خاتم النبیین کے اس معنیٰ کے انکار کا راستہ کھلتا ہے جو نئے نبی کی راہ میں حائل ہے۔ مذکورہ بالا عبارت کی روشنی میں قادیانیوں کا یہ دعوی اچھی طرح آپ کے ذہن نشین ہو گیا ہوگا کہ وہ لوگ حضور اکرم کے خاتم النبیین ہونے کا انکار نہیں کرتےبلکہ خاتم النبیین کے اس معنی کا انکار کرتے ہیں جو عام مسلمانوں میں رائج ہے اور اسی انکار پر انہیں ”ختم نبوت کا منکر“ کہا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خاتم النبیین کا وہ کون سامعنیٰ ہے جو عام مسلمانوں میں رائج ہے اور سب سے پہلے اس معنی کا انکار کس نے کیا ہے۔

اتنی تفصیل کے بعد اب ہر طرف سے خالی الذہن ہو کر تحذیر الناس کے مصنف قاسم نانوتوی کی کار گزاریوں کے متعلق ایک قادیانی مصنف کا یہ بیان پڑھیے اور عقیدہ ختم نبوت کے انکار کے سلسلے میں اصل مجرم کا سراغ لگائیے۔

تمام امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین ہیں کیونکہ قرآن مجید کی آیات  وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ میں آپ کو خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے۔

نیز اس امر پر بھی تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے لفظ خاتم النبیین بطورِ مدح و فضیلت ذکر ہوا ہے۔

اب سوال صرف یہ ہے کہ لفظ خاتم النبیین کے کیا معنی ہیں۔ یقیناً اس کے معنیٰ ایسے ہی ہونے چاہییں جن سے حضرت  ۔محمد کی فضیلت اور مدح ثابت ہو۔

Share:
keyboard_arrow_up