اس لیے ایک ایسا نبی مبعوث کیا جائے جو حکومتِ برطانیہ کا قصیدہ پڑھے، مسلمانوں کو ذہنی طور پر حکومتِ برطانیہ کا غلام بنا کر رکھے اور مسلمانوں کے اندر سے جہاد کی اسپرٹ ختم کرائے تا کہ انگریزی حکومت کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے جہاد اور بغاوت کا اندیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ ان ساری باتوں کے ثبوت کے لیے ہمیں کہیں باہر سے کوئی شہادت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے قلم سے ان ساری باتوں کا ثبوت فراہم کر دیا۔ پاسداری کے جذبے سے اوپر اٹھ کر مرزا جی کی یہ تحریریں پڑھیے۔
اپنے آقائے نعمت، سرکارِ برطانیہ کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے مرزا جی لکھتے ہیں: ”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں، نہ روم میں نہ شام میں، نہ ایران میں نہ کابل میں، مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لیے دعا کرتا ہوں“۔ (اشتہار مرزا جی مندرجہ تبلیغ رسالت ج 6ص 69)
مرزا جی کا ایک اشتہار اور پڑھیے، اپنے منعم کی بے التفاتی کا شکوہ کتنی دردناک حیرت کے ساتھ نمایاں ہے۔
”بار ہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی غرض سے ہم نے کئی کتابیں مخالفتِ جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے ، اسی گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن یہ گورنمنٹ عالیہ میری خدمات کی قدر کرے گی“ ۔ (تبلیغ رسالت ج 10ص28)
مرزا جی کی مذکورہ بالا تحریروں سے یہ بات واضح ہو گئی کہ قادیانی مذہب کے ساتھ انگریزوں کا سر پرستانہ تعلق کیسا تھا اور نیاز مندی کے کس والہانہ جذبے کے ساتھ انہوں نے اپنی مصنوعی اور باطل نبوت کے فروغ کے لیے انگریزی حکومت کی کاسہ لیسی کی۔
اب چشمِ حیرت کھول کر عقیدۂ ختمِ نبوت کے خلاف انگریزوں کی در پردہ سازش کی ایک دل دہلا دینے والی کہانی اور پڑھیے۔
قادیان سے ایک مصنوعی پیغمبر کو کھڑا کرنے اور اس کی دعوت کو فروغ دینے کے لیے جہاں انگریزوں نے اپنے سرکاری وسائل کا استعمال کیا وہاں علمی اور فکری طور پر نئی نبوت کا راستہ ہموار کرنے کے لیے دیوبندی اکابر کے علمی اور مذہبی اثرات سے بھی کام لیا۔ شرح اس اجمال کی یہ ہے کہ کسی جدید نبوت کی راہ میں ختمِ نبوت کا یہ قرآنی عقیدہ ہمیشہ حائل رہا ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں ، ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں پیدا ہو سکتا۔
اب نئی نبوت کی راہ میں قرآن کی طرف سے جو رکاوٹ کھڑی تھی ، اسے دور کرنے کے دو ہی راستے تھے۔ یا تو قرآن کی اس آیت ہی کو بدل دیا جائے جس میں حضور انور ﷺ کے لیے صراحت کے ساتھ خاتم النبیین کا لفظ موجود ہے جس کے معنی آخری نبی کے ہیں، یا پھر خاتم النبیین کا لفظ جوں کا توں رہنے دیا جائے صرف اس کا مفہوم بدل دیا جائے۔ پہلا راستہ ممکن نہیں تھا کہ روئے زمین پر قرآن کے کروڑوں نسخے اور لاکھوں حفاظ موجود تھے۔ لفظ کی تحریف چھپائے نہیں چھپ سکتی تھی اس لیے معنوی تحریف کا راستہ اختیار کیا گیا۔
اور طے پایا کہ لفظ ”خاتم النبیین“ کے معنیٰ آخری نبی ، جو عہد صحابہ سے لیکر آج تک ساری امت میں مشہور ہیں، اسے بدل دیا جائے اور اس لفظ کا کوئی ایسا معنی تلاش کیا جائے جو کسی نئے نبی کے آنے میں رکاوٹ نہ بنے۔ چنانچہ راستے کا یہ پتھر ہٹانے کے لیے دارالعلوم دیو بند کے بانی قاسم نانوتوی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ میں اپنی طرف سے کوئی الزام عائد نہیں کر رہا ہوں بلکہ خود ایک قادیانی مصنف نے اپنی کتاب ” افاداتِ قاسمیہ“ میں پوری تفصیل کے ساتھ یہ قصہ بیان کیا ہے۔ یہ کتاب سالہا سال سے چھپ رہی ہے لیکن دیو بند کی طرف سے اب تک اس کی کوئی تردید شائع نہیں ہوئی جس سے سمجھا جاتا کہ قادیانیوں کی طرف سے نانوتوی کے خلاف جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے۔

