Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 6 of 115

اور اپنے دعوے کے مطابق مرزا جی محمد کی بعثتِ ثانیہ ہیں تو پھر معاذ اللّٰہ وہ محمد ہی ہیں کیونکہ قیامت کے دن اولادِ آدم کی جو بعثتِ ثانیہ ہوگی تو وہاں موجود ہر شخص اپنے اصل وجود کے ساتھ آئے گا ظل کے ساتھ نہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں یا تو ظلی اور بروزی ہونے کا دعویٰ غلط ہے یا پھر محمد کی بعثتِ ثانیہ ہونے کی بات جھوٹی ہے۔

اب رہ گیا یہ دعویٰ کہ وہ مسیح کی بشارت اور اِسمُهُ احمد کے مصداق بھی ہیں تو اس دعوے کا تضاد بھی کسی تبصرے کا محتاج نہیں ہے۔ کیونکہ اگر وہی حضرت مسیح علیہ السلام کی بشارت اور اسمہ احمد کے مصداق ہیں تو پھر اپنے آپ کو غلام احمد قرار دینا غلط ہے۔ کیونکہ یہ دعویٰ کر کے تو معاذ اللّٰہ وہ خود احمد ومحمد ہونے کے مدعی ہیں۔ اور اگر غلام احمد کو مسیح مانا جائے تو اسمہ احمد کے مصداق ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔

خلاصہ یہ کہ مرزا جی کے ان دعووں کو اگر عقل و مذہب کے ترازو میں تولا جائے تو ہر دعویٰ دوسرے دعوے کی تکذیب کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ان کا کوئی دعویٰ بھی ایسا نہیں ہے جسے صحیح تسلیم کر لینے کے بعد دوسرا دعویٰ دامن نہ تھا متا ہو کہ میرا انکار کرو۔

ان حالات میں یہ فیصلہ کرنا قارئین کرام ہی کا کام ہے کہ مرزا جی حقیقت میں کیا ہیں۔ نبی ہونے کی بات تو ایک خواب پریشان کی حیثیت رکھتی ہے۔ ابھی تو یہی سوال زیرِ بحث ہے کہ وہ صحیح الدماغ آدمی بھی تھے یا نہیں؟ کیونکہ عقل و دانش کی سلامتی کے ساتھ کوئی شخص بھی اس طرح کے متضاد دعوے ہرگز نہیں کر سکتا۔ گفتگو کا یہ انداز یا تو چنیا بیگم سے جی بہلانے والوں کا ہے یا پاگل خانے کے دیوانوں کا، یا پھر کسی ایسے سنسنی خیز شاطر کا جس کی آنکھ سے شرم و حیا کا پانی اتر گیا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ مرزا جی کے ان دعووں پر خود ان کے ماننے والے بھی آپس میں دست وگریبان ہیں۔ ایک طبقہ ان کے دعوئے نبوت کو تسلیم کرتا ہے جبکہ دوسرا گروہ انہیں صرف مجدد مانتا ہے۔

کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ماننے والے ہی دعوے پر متفق نہیں ہیں تو دوسروں کے ماننے نہ ماننے کا سوال کہاں باقی رہتا ہے۔ اخیر میں ان لوگوں سے جو مرزا جی کو امتی نبی مانتے ہیں، چند سوال کر کے یہ بحث ختم کرتا ہوں ۔ ڈیڑھ ہزار برس کی لمبی مدت میں خاتم پیغمبراں ، سرورکون ومکاں، حضور اکرم کی اطاعت و محبت کے فیضان سے امتِ محمدیہ میں کوئی نبی پیدا ہوا ہو تو اس کا نام اور پتہ بتائیے؟ اس کے ساتھ اس سوال کا بھی جواب دیجئے کہ صحیح حدیثوں میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے تیسں دجالین و کذابین کی جو خبر دی گئی ہے تو اس کا مصداق مرزاغلام احمدقادیانی کیوں نہیں ہے؟

نیز یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ احادیث کی روشنی میں مسیح موعود بطنِ مادر سے پیدا ہونگے یا آسمان سے ان کا نزول ہو گا؟ اور نزول بھی ہوگا تو قادیان میں یا جامع دمشق کے مینارے پر ؟ تاریخی اعتبار سے یہ حقیقت اتنی واضح ہو چکی ہے کہ اب اس میں دو رائے کی گنجائش نہیں ہے کہ قادیانی مذہب کی ولادت حکومتِ برطانیہ کی گود میں ہوئی اور اسی کی سر پرستی میں وہ پروان چڑھا۔

انگریزوں نے اپنے قابو کا نبی دو مقاصد کے لیے مبعوث کیا تھا۔

پہلا مقصد تو یہ تھا کہ: ختمِ نبوت کا جو عقیدہ قرآن سے ثابت ہے ، اسے ایک نیا نبی بھیج کر جھٹلا دیا جائے اور ساری دنیا میں اس بات کی تشہیر کی جائے کہ قرآن کی کہی ہوئی بات غلط ہو گئی اس لیے وہ خدا کی کتاب نہیں ہے۔ کیونکہ خدا کی بات غلط نہیں ہو سکتی۔

اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ :نبی کی زبان و قلم سے جو بات نکلتی ہے، دنیا اسے وحیِ الٰہی سمجھ کر بے چوں و چرا قبول کر لیتی ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up