Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 5 of 115

قرآن مجید کی نصوص، احادیث متواترہ، تاریخ کی منظر کشی ، قادیانی دجل و فریب کی داستان، پھر عقلی ادلہ سمیت اتنے پہلوؤں پر مشتمل کہ حب رسول  کی چاشنی بھی ہے اور اسلامی عقائد بشمول عقیدہ ختم نبوت کی تعلیم بھی، نیز اس کے انکار کی راہ ہموار کرنے والوں سے اجتناب کا انتباہ بھی موجود ہے۔

یہ کتاب علماء اور عوام کے لیے یکساں مفید ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ارباب محکمہ تعلیم اسے نصاب میں شامل کر لیں تا کہ نو خیز نسل گمراہوں کی دجل فریبیوں سے بچ سکے۔ یوں اس کتاب کی افادیت دو آتشہ ہو جائے گی۔ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس عظیم سید زادے اور شہزادے کی علمی کاوشوں کو دوام بخشے اور عالم اسلام ان کی تصنیفات سے فیض یاب ہو۔ آمین ثم آمین

محمد سلیمان رضوی غفرلہ تقديم از: رئیس التحریر علامہ ارشد القادری رحمۃ اللّٰہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحيم

والصلوة والسلام على رسوله الكريم

مرزا قادیانی نے اپنے بارے میں جو عجیب و غریب دعوے کیے ہیں ، ان کی تفصیل ہی انہیں جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ وہ مضحکہ خیز دعوے ملاحظہ فرمائیے۔

(۱)میں نبی ہوں ۔

(۲) اللّٰہ ہی نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے۔

(۳) میں ظلی نبی ہوں۔

(۴) میں بروزی نبی ہوں۔

(۵) میں مسیح موعود ہوں۔

(۶) میں مہدی ہوں۔

(۷) میں مجدد ہوں۔

(۸) میں محمد کی بعثت ثانیہ ہوں یعنی میرے پیکر میں خود محمد نے ظہور کیا ہے۔

(۹) میں مسیح کی بشارت اور اسمہ احمد کا مصداق ہوں۔نعوذ بالله من ذلك

( قادیانی کتب و رسائل سے ماخوذ) یہ تمام دعوے آپس میں اس طرح متصادم ہیں کہ انہیں ایک جگہ جمع کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان پر نظر ڈالنے کے بعد جس حیرانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یہ ہے۔

بفرض محال اگر وہ خدا کی طرف سے ان ہی معنوں میں نبی اور رسول ہیں جن معنوں میں پچھلے تمام انبیاء و مرسلین تھے تو پھر یہ ظلی اور بروزی کا پیوند کیا ہے؟ جب کہ انبیائے ما سبق میں سے ہر نبی حقیقی اور اصلی نبی تھا۔ کسی نے بھی اپنے آپ کو ظلی یا بروزی نبی کی حیثیت سے نہیں پیش کیا۔

اور اگر ظلی و بروزی ان معنوں میں نبی نہیں ہے جن معنوں میں قرآن نبی کا لفظ استعمال کرتا ہے تو پھر قرآنی نبی کی طرح اپنے اوپر ایمان لانے کا مطالبہ کیوں ہے؟ اور پھر ایک ایسی اصطلاح جو تاریخ انبیاء میں نہیں ملتی، کس مصلحت سے تراشی گئی ہے؟

پھر اپنے دعوے کے مطابق مرزا جی اگر مسیح موعود ہیں تو ظلی و بروزی ہونے کا دعویٰ غلط ہے کیونکہ مسیح موعود مستقل نبی ہیں ظلی و بروزی نبی نہیں ہیں۔ نیز مسیح موعود صرف مسیح ہی نہیں ہیں بلکہ مسیح ابنِ مریم ہیں۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ غلام احمد ابن چراغ بی بی، مسیح ابنِ مریم کیوں کر ہو گئے؟

اور اگر وہ مہدی ہیں تو مسیح موعود نہیں ہو سکتے کیوں کہ ان دونوں اسموں کا مسمی ایک نہیں ہے الگ الگ ہے۔ یعنی مہدی اور مسیح موعود دو الگ الگ شخصیتیں ہیں اور احادیث کی روایات کے مطابق دونوں کا ظہور بھی الگ الگ ہوگا۔ نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیغمبر ہیں جبکہ امام مہدی پیغمبر نہیں ہیں بلکہ وہ امتِ محمدیہ کے ایک فرد ہیں۔ اس لیے دو الگ الگ شخصیتوں کا مصداق شخصِ واحد کو قرار دینا کھلا ہوا دھوکہ اور سفید جھوٹ ہے۔

اور اگر مرزا جی مجدد ہیں تو نبی ہونے کا دعویٰ غلط ہے کیونکہ حدیث کی صراحت کے مطابق مجدد نبی نہیں ہوتا بلکہ افراد امت میں سے اس کی حیثیت صرف ایک دینی مصلح کی ہوتی ہے۔ لہٰذا مجدد ہونے کا دعویٰ اگر صحیح تسلیم کیا جائے تو لازماً نبی و رسول ہونے کے دعوے کی تکذیب کرنی ہوگی۔ اور بفرضِ محال اگر نبی ورسول ہونے کا دعویٰ صحیح قرار دیا جائے تو مجدد ہونے کے دعوے کو جھٹلانا ہوگا۔ کیونکہ دونوں دعوے ایک ساتھ ہرگز جمع نہیں ہو سکتے ۔

Share:
keyboard_arrow_up