Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 4 of 115

بسم الله الرحمن الرحيم

امام الانبیاء، اعلم الکائنات کو اللّٰہ تعالیٰ نے جن اوصاف سے نوازا، ان میں آپ کا خاتم النبیین ہونا بھی شامل ہے۔ آپ کا وصف ختم نبوت منصوص، منطوق اور اخبار متواترہ سے ثابت ہے۔

غیب دان نبی  نے اپنی زندگی میں فرما دیا تھا،

لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلٰثين كلهم يزعم انه رسول الله 

قیامت سے پہلے تیسں کے قریب ایسے دجال کذاب آئیں گے جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں گے۔

ان میں یمن کا اسود عنسی اور یمامہ کا مسیلمہ کذاب بھی شامل ہیں۔ حتی کہ جنگِ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشی نے قتل کیا جوقاتلِ امیر حمزہ رضی اللّٰہ عنہ تھے۔

یوں سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ یارِ غارِ مصطفیٰ کریم کی خلافت کے دوران لڑی جانے والی پہلی عظیم جنگ منکرینِ ختمِ نبوت سے ہوئی اور منکرینِ ختمِ نبوت کی بیخ کنی کا پہلا اعزاز صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ کے حصے میں آیا۔

یکے بعد دیگرے مختلف ادوار میں مدعیان نبوت آتے رہے تا آنکہ ہندوستان میں قادیان کے ایک باشی نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کر دیا ۔ ہندوستان کے ہر عالم نے اس کی جھوٹی نبوت کے بخیے اُدھیڑے اور اسے ذلت سے ہم کنار کیا۔ جن میں سب سے نمایاں اور جاندار کردار تا جدار گولڑہ حضور اعلیٰ پیر سید مہر علی شاہ صاحب اور محدث علی پوری پیرسید جماعت علی شاہ صاحب کا تھا۔ اور اس عمل کی انتہائی کاروائی مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی کے حصہ میں آئی کہ پارلیمنٹ سے قادیانیوں کے خلاف قرارداد پاس کروائی اور انہیں اقلیت اور غیر مسلم قرار دلوایا۔

حتیٰ کہ عالم اسلام نے اس تتبع میں انہیں غیر مسلم قرار دیکر حرمین طیبین میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا۔ عقیدۂ ختمِ نبوت پر علماء ملتِ اسلامیہ نے اجماع قولی اور اجماع عملی کی مہر ثبت کی جن میں علامہ ابن کثیر نے یہ حدیث ﴿انا العاقب الذي ليس بعده نبی ﴾ لا کر لکھا کہ نبیِ پاک نے فرمایا، میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور جو دعویٰ کرے گا وہ ضَال، مُضِلٌّ ، دَجَّال ، أَفَّاک، کذَّاب ہے۔

امام اعظم کا فرمان ہے کہ:

جو کسی مدعی سے نبوت کی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہے۔

علامہ ابن جریر تفسیر طبری میں ،

امام طحاوی شرح الطحاویہ میں،

علامہ قرطبی تفسیر قرطبی میں،

زمخشری کشاف میں ،

قاضی عیاض شفا شریف میں،

امام غزالی الاقتصاد فی الاعتقاد میں،

امام رازی تفسیر کبیر میں ،

علامہ بغوی معالم التنزیل میں،

علامہ بیضاوی انوار التنزیل میں،

علامہ نسفی مدارک التنزیل میں،

علامہ شہرستانی الملل والنحل میں،

علامہ علی بن محمد تفسیر خازن میں،

ابن نجیم الاشباہ والنظائر میں،

علامہ اسماعیل حقی تفسیر روح البیان میں،

علامہ سید محمود آلوسی تفسیر روح المعانی میں

اور محدث علی قاری شرح فقہ اکبر میں ختم نبوت پر دلائل دیکر لکھتے ہیں، حضور آخری نبی ہیں، آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔ اس پر امت کا اجماع ہے۔ ہر دور میں جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف علماء حق نے کتب لکھ کر عوام تک پہنچائیں تاکہ ساده لوح مسلمان ان کے دجل و فریب سے بچ سکیں ۔ یوں تو آئے دن کوئی نہ کوئی نئی تحقیق پر مبنی کتاب ختم نبوت کے عنوان پر آتی رہتی ہے۔ حال ہی میں اس عنوان پر بنام ”ختمِ نبوت“ نئی اور جامع کتاب کا مسودہ نظر سے گزرا۔ یہ کاوش اور ہمہ جہت کتاب شہزادۂ غوثِ اعظم، سید السادات، پیر طریقت پیر سید شاہ تراب الحق صاحب قادری خلیفہ مجاز مفتیِ اعظم ہند مولانا مفتی محمد مصطفیٰ رضا خان صاحب بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی تصنیف منیف ہے جو اس عنوان پر اتنی جامع ہے کہ دوسری کتب کے مطالعہ سے بے نیاز کر دیتی ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up