پڑھوں لاحول نہ کیوں دیکھ کے صورت تیری احادیث مبارکہ میں دوسری بڑی نشانی یہ ارشاد ہوئی کہ
’’وہ نازل ہونگے‘‘۔اور نزول کامعنی ہے، ’’اوپر سے نیچے آنا‘‘۔مرزا قادیان میں پیدا ہوا،آسمان سے نازل نہیں ہوا اور دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔اللّٰہ تعالیٰ کے سچے رسول فرماتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام نازل ہونگے۔
انگریز کا پروردہ جھوٹا نبی کہتا ہے کہ وہ نازل نہیں ہوگا،بلکہ میں ہی وہ مسیح ہوں۔اب یہ اپنا اپنا نصیب ہے کہ کون سچے رسول کو مانتا ہے اور کون جھوٹے کو۔
تیسری نشانی یہ بیان ہوئی کہ وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے، یعنی وہ عیسائی مذہب کا تشخص ختم کردیں گے۔اس کے برخلاف مرزا قادیانی عیسائی مذہب کا تشخص ختم کرنے کی بجائے اسے بچانے میں لگے رہے، تمام عمر عیسائی ملکہ کی خوشامداور عیسائی گورنمنٹ کی چاپلوسی میں گزار دی۔
نیزحدیث نمبر7 میں واضح ارشاد ہوا کہ ان کے دور میں اسلام کے سوا دوسرے دین مٹ جائیں گے جبکہ مرزا کے دور میں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا پھر وہ مسیح موعود کس طرح ہوسکتے ہیں؟
چوتھی نشانی یہ بیان ہوئی کہ وہ اسلام کی خاطر کافروں سے جہادکریں گے۔ مرزا قادیانی نے تو اس کے بالکل برعکس کیا کہ ساری عمر جہاد کی مخالفت کی ، مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دینے کی بجائے کفار کا وفادار بنانے کے لئے کتابیں لکھتے رہے، جہاد کو حرام کہا اور پھرجہاد کو سرے سے ہی منسوخ کردیا۔
پانچویں نشانی یہ ارشاد ہوئی کہ وہ دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس نازل ہونگے۔مرزا قادیان میں پیدا ہوا اور ساری عمر دمشق نہ دیکھا۔ حدیث پاک کی باطل تاویل یہ کی کہ جہاں کے لوگ یزید پلید کے خیالات و عادات والے ہوں وہ جگہ دمشق کہلائی جاسکتی ہے۔مرزا کذاب ایک خود ساختہ الہام لکھتا ہے، ’’تب اس نے مجھ سے کہا کہ یہ لوگ یزیدی الطبع ہیں اور یہ قصبہ (قادیان) دمشق کے مشابہ ہے۔ سو خدا تعالیٰ نے ایک بڑے کام کے لئے اس دمشق میں اس عاجز کو اُتارا‘‘۔
اس حوالے کے تحت پروفیسر حبیب اللّٰہ چشتی رقمطراز ہیں، ’’قادیان کا دمشق بننا آپ نے ملاحظہ فرمایا اور حدیث پاک کے واضح الفاظ سے سنگین مذاق کا یہ ظلم بھی آپ نے دیکھ لیا۔ اب آپ خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ اگر اس ڈگر کو اختیار کر لیا جائے تو بات کہاں تک پہنچے گی۔ اور کیا کوئی بھی حقیقت ثابت رہ سکے گی؟ مثلاً بیت اللّٰہ شریف مکہ مکرمہ میں ہے ، کتنی واضح اور اٹل حقیقت ہے۔ اب کوئی بندہ کہے کہ بیت اللّٰہ شریف لاہور میں ہے۔ اسے کہا جائے کہ وہ تو مکہ مکرمہ میں ہے۔ وہ کہے کہ نہیں مجھے الہام ہوا ہے کہ جیسے مکہ میں پہاڑ ہی پہاڑ ہیں ایسے ہی لاہور کے لوگ سنگ دل ہیں۔
اسی مشابہت سے مکہ سے مراد لاہور ہے۔ اور انوار وتجلیات جو بیت اللّٰہ شریف پر برستے ہیں اب لاہور پر برستے ہیں اس لئے اب حرم لاہور بن گیا ہے۔ تو ایسے شخص کو آپ مخبوط الحواس اور پاگل کے سوا کیا کہیں گے؟ اور واقعی یہ ہے بھی ایسا لیکن تعجب ہے یہی اصول مرزا جی کی بھونڈی تاویلات پر کیوں نہیں چلتا۔ اگر لفظوں کی حقیقت صرف یہ کہہ کر بدل دی جائے کہ مجھے الہام ہوا ہے توکچھ بھی باقی نہیں رہ سکتا‘‘۔
احادیث میں چھٹی نشانی یہ بیان ہوئی کہ وہ دو زرد چادریں پہنے فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے نازل ہونگے۔مرزا دجال نے یہاں بھی حقیقت کو ایک نہایت بھونڈی تاویل کے ذریعے مسخ کیا ہے۔وہ لکھتا ہے، ’’دو زرد رنگ کی چادریں جن کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہوگا۔ وہ دو زرد چادریں میرے شاملِ حال ہیں۔ جن کی تعبیر علم الرؤیا کی رو سے دو بیماریاں ہیں۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصہ میں ہے کہ ہمیشہ سردرد اور دورانِ سر اور کمی ٔ خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری چادر میرے نیچے کے بدن کے حصہ میں ہے۔ وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسااوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے‘‘۔

