9۔حضرت علی کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ سورۃ المائدہ کی آیت ۱۵۹ کی تفسیر میں فرماتے ہیں،
’’بے شک عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے بلکہ انہیں زندہ آسمان کی طرف اُٹھا لیا گیا۔ وہ قیامت قائم ہونے سے پہلے نازل ہونگے اور کوئی یہودی اور عیسائی ایسا نہیں رہے گا جو اُن پر ایمان نہ لائے‘‘۔
10۔حضرت عبداللّٰہ بن عمرو سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا،
’’عیسیٰ بن مریم زمین پر نازل ہونگے، وہ شادی کریں گے، ان کی اولاد ہوگی اور وہ پینتالیس سال رہ کر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ میرے مقبرہ میں دفن کئے جائیں گے‘‘۔
11۔حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا نے فرمایا،
’’میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے بچالیا ہے۔ ایک وہ جو ہندوستان پر حملہ کرے گا اور دوسرا وہ جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوگا‘‘۔
12۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رحمتِ عالم نے فرمایا،
’’مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! بلاشبہ عیسیٰ بن مریم فج الروحاء میں حج یا عمرہ یا دونوں کا تلبیہ کہیں گے‘‘۔
مرزا کذاب کے دجل وفریب: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو علامات مذکورہ احادیثِ کریمہ میں بیان ہوئیں، ان میں سے کوئی ایک بھی مرزا دجال میں نہیں پائی جاتی۔اس کے باوجود مرزا نے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کے وفات پانے پر اصرار کیا پھر خود مثیلِ مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور مسیح موعود ہونے کی واضح الفاظ میں تردید کی۔
اس نے لکھا، ’’میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگادے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہا ہے کہ میں مثیلِ مسیح ہوں‘‘۔ پھر مرزا کذاب نے عجیب وغریب طریقوں اور بھونڈی تاویلوں کے ذریعے عیسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کو اپنے اوپر منطبق کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا، ’’میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا‘‘۔
اب ہم مذکورہ احادیثِ مقدسہ میں بیان فرمائی ہوئی بعض علامات لکھ کر ان پر مرزا قادیانی کی مضحکہ خیز تاویلات کا جائزہ لیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے بڑی نشانی ان کا اسم گرامی ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ اس نے قرآن مجید میں کئی انبیاء کرام کے نام ذکر فرمائے مگر عیسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی نبی کے نام کے ساتھ اس کے والد یا والدہ کانام ذکر نہیں فرمایا۔
بلکہ یہی فرمایا، {عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ} {الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ} اسی طرح رسولِ معظم نے بھی احادیثِ مبارکہ میں کسی نبی کے نام کے ساتھ اس کے والد یا والدہ کا نام ارشاد نہیں فرمایا۔جب مسیح موعود کا ذکر فرمایا تو ساتھ ابن مریم بھی فرمایا تاکہ کسی کذاب اور دجال کو یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہ ہوسکے۔
اب مرزا دجال کا نام دیکھئے، غلام احمد، والد کا نام: غلام مرتضیٰ،والدہ کا نام: چراغ بی بی عرف گھسیٹی۔
اب بتائیے کہ مرزا دجال مسیح موعود کیسے ہوسکتا ہے؟ مرزا،اس حقیقت کا جواب سوائے مضحکہ خیز تاویلوں کے کیا دے سکتا تھا۔
چنانچہ اس نے لکھا، ’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیااور کئی ماہ بعد جو دس ماہ سے زیادہ نہیں، بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا، پس اس طور سے میں ابنِ مریم ٹھہرا‘‘۔

