Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 85 of 115

اور اگر یہ مکان کے لئے آئے تو اس کا معنی ہے،’’ تنہا ہونا‘‘ ۔جیسے خلوت یعنی تنہائی، اور بیت الخلاء یعنی تنہائی کی جگہ۔

ارشادِ ربانی ہے،

{وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ}

’اور جب اپنے شیطانوں کے پاس تنہا ہوتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔

قرآن مجید کے برخلاف مرزا دعویٰ کرتا ہے کہ : ’’تم ایک بھی ایسی آیت پیش نہ کر سکو گے جس میں کسی انسانی گروہ کو خلت کا مصداق ٹھہرایا ہو اور پھر اس آیت کے معنی موت نہ ہوں‘‘۔

سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۴ کا مصداق منافقین ہیں۔ اب اگر مرزا کی بات مانی جائے تو آیت کا مفہوم ہوگا،’’اور جب وہ اپنے شیطانوں کی طرف مر جاتے ہیں توکہتے ہیں، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔

کیا یہ قرآن مجید کا مفہوم ہوسکتا ہے؟؟ سورۃ اٰلِ عمران کی آیت ۱۱۹بھی منافقین کے متعلق ہے۔

ملاحظہ ہو:

{وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْاعَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ}

مرزا کے مطابق اس آیت کا ترجمہ یہ ہوگا،’’ اور جب وہ مر جاتے ہیں تو تم پرغصہ سے انگلیاں چباتے ہیں‘‘۔کیا یہ قرآن عظیم کا معنی ہوسکتا ہے؟؟

صحیح ترجمہ یہ ہے، ’’اور جب وہ اکیلے ہوں تو تم پرغصہ سے انگلیاں چباتے ہیں‘‘۔

مذکورہ بالا دونوں آیات میں زندوں کے متعلق ’’ خَلَوْا‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ’’خَلَتْ‘‘ کا استعمال زندوں پر بھی ہوتا ہے۔اگر مرزائی اب بھی نہ مانیں تو پھر وہ اس آیت کا کیا ترجمہ کریں گے،

{سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا} کیا اللّٰہ تعالیٰ کی سنت یا اس کا طریقہ مر جاتا ہے؟؟ (معاذ اللہ)

معلوم ہوا کہ قادیانی ضرور گمراہ ہیں۔ اس آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے، ’’ اللّٰہ کا دستور ہے کہ پہلے سے چلا آتا ہے، اورہرگز تم اللّٰہ کا دستوربدلتا نہ پاؤ گے‘‘۔

اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ {خَلَتْ} کا حقیقی معنی موت نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے ،’’گزر جانا‘‘ یا ’’تنہا اورالگ ہونا‘‘۔پس موضوعِ گفتگو آیت مقدسہ میں {قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ} کا مفہوم یہ ہوگا کہ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں یا اپنی امتوں سے الگ ہوگئے ہیں۔ خواہ وہ وصال فرما کر اپنی امتوں سے الگ ہوگئے ہیں یا آسمان کی طرف اُٹھائے جانے سے الگ ہوئے ہیں۔

نزولِ مسیح اور احادیثِ مبارکہ: سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت فرماتے ہیں، ’’دجال اور یاجوج وماجوج کا نکلنا،اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور وہ تمام علاماتِ قیامت جو صحیح احادیث میں وارد ہوئی ہیں، حق ہیں۔وہ سب ظاہر ہونگی‘‘۔

امت کا اجماع ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اُٹھا لیا اور وہ آخری زمانے میں نازل ہونگے۔ختم نبوت کے معاملے میں اس سے کچھ فرق نہیں آتا۔ ختم نبوت کے عقیدے کا تقاضا یہ ہے کہ خاتم النبیین کے بعد کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا جبکہ عیسیٰ علیہ السلام حضور کی بعثت سے پہلے کے نبی ہیں۔ مزید یہ کہ جب وہ نازل ہونگے تو حضور ہی کی شریعت کی اتباع کریں گے اور آپ ہی کے قبلے کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھیں گے، گویا وہ آپ ہی کی امت کا حصہ بن جائیں گے۔

Share:
keyboard_arrow_up