ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،
{اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِھَا}
’’اللّٰہ جانوں کو وفات دیتا ہے اُ ن کی موت کے وقت، اور جو نہ مریں،اُنہیں اُن کی نیند میں ‘‘۔
مفہوم یہ ہے کہ توفی کا اطلاق موت کے وقت اس لئے ہے کہ اس وقت روح کو مکمل طور پر قبضہ میں لے لیا جاتا ہے۔ اور اس کا اطلاق نیند کے وقت اس لئے ہے کہ اس وقت عقل وادراک اور ہوش وحواس کو مکمل طور پر لے لیا جاتا ہے۔
یونہی جہاں اجر اور بدلے کے متعلق توفی آیا ہے وہاں مکمل اجر اورپورا بدلہ دینے کا بیان ہے۔
ایک اور آیت ملاحظہ کیجیے جو اس پر واضح دلیل ہے کہ توفی اور چیز ہے اور موت اور چیز۔ ارشادِ ربانی ہے،
{حَتّیٰ یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ}
’’یہاں تک کہ موت انہیں اپنے قبضے میں لے لے‘‘۔
مفسرِ کبیر امام رازی علیہ الرحمہ تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں، ’’توفی کا معنی ہے کسی چیز کو مکمل طور پر لے لینا۔ رب تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ بعض بندوں کو یہ خیال ہوگا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو اُٹھایا ہے، اُن کے جسم کو نہیں۔اس لئے یہ{مُتَوَفِّیْکَ} فرمادیا تاکہ یہ دلیل ہوجائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح اور جسم کے ساتھ مکمل طور پر آسمان پر اُٹھایا گیا ہے‘‘۔
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اس آیت کے تحت رقمطراز ہیں، ’’{مُتَوَفِّیْکَ}کا معنی ہے’’قابضک‘‘ یعنی میں مکمل طور پر تمہیں اپنے قبضے میں لینے والا ہوں۔ {وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} کا معنی ہے، میں تمہیں بغیر موت کے دنیا سے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں‘‘۔
اب اسی طرح یہ آیت ملاحظہ کیجئے جس میں ہے کہ قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام سے عیسائیوں کی گمراہی کے متعلق سوال ہوگا تو وہ بارگاہِ الٰہی میں عرض کریں گے، فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ ’’پھر جب تُو نے مجھے اُٹھا لیا تو تُو ہی اُن پر نگاہ رکھتا تھا ‘‘۔یعنی جب تو نے مجھے مکمل طور پراپنے قبضہ میں لے لیا تو تُو ہی ان کا نگہبان تھا۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا مذکورہ ترجمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کے عین مطابق ہے۔
مرزائیوں کا ایک استدلال: فرمانِ الٰہی ہے،{وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّارَسُوْلٌ ط قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ} ’’اور محمد تو ایک رسول ہیں، اُن سے پہلے اور رسول ہوچکے‘‘۔(کنزالایمان)
مرزا قادیانی اس آیت سے وفاتِ مسیح پر استدلال کرتے ہوئے لکھتا ہے، ’’اگر قرآن شریف کو غور سے دیکھا جائے تومعلوم ہوگا کہ اور بھی بہت سی ایسی آیات ہیں جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے چنانچہ منجملہ ان کے یہ آیت ہے
[ پھر مذکورہ آیت (اٰلِ عمران :۱۴۴)لکھی] بلکہ جہاں جہاں قرآن شریف میں خلت کا لفظ آیا ہے وفات کے معنی پر ہی آیا ہے‘‘۔
مرزا دجال کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں ’’خَلَتْ‘‘ کا مطلب ہے ’’وفات پاگئے‘‘۔ چونکہ نبی کریم سے پہلے والے تمام نبی وفات پاگئے اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی وفات پاگئے۔
مرزا نے اپنی عادت کے مطابق اس آیت کے معنی میں بھی تحریف کی ہے۔ لغت کی کسی کتاب میں بھی ’’خَلَتْ‘‘ کا معنی وفات پاگئے نہیں ہے۔لفظ ’’خَلَتْ‘‘،خَلَاءٌ یا خُلوٌ سے مشتق ہے۔اس کے دومعانی ہیں۔
1۔اگر یہ لفظ زمانے کے لئے آئے تو اس کا معنی ہے، ’’گزرجانا‘‘۔
{تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ} ’’وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا‘‘۔

