Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 83 of 115

مرزا کذاب کہتا ہے،عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے سولی پر چڑھایا اور وہ آپ کو مردہ سمجھ کر چلے گئے۔ آپ جب ہوش میں آئے تو وہاں سے کشمیر سرینگر آگئے اور علاج کرایا۔ طویل عرصہ زندہ رہے پھر وفات پائی اور محلہ خان یار میں دفن ہوئے۔

پس عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر نہیں اُٹھایا گیا۔ جن احادیث میں اُن کے آنے کا ذکر ہے، اس سے مراد میں (مرزا) ہوں، میں وہی مسیح موعود ہوں۔ مرزا دجال کی کتب دیکھئے تو واضح ہوتا ہے کہ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہت زیادہ کردار کُشی کی ہے، آپ پر متعدد بہتان لگائے ہیں اور آپ کی وفات پر بہت زور دیا ہے ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزا چاہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کیچڑ اُچھالنے اور اُن کی ذاتِ اقدس کی طرف عیب منسوب کرنے سے مسلمانوں کے دلوں میں ان کی عظمت و محبت کم ہوجائے ۔

مزید یہ کہ لوگوں کو اُن کی وفات پر یقین ہوجائے تاکہ جب مرزا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے تو لوگوں کو آسانی سے اپنی طرف مائل کر سکے۔ پس عیسائیوں کی مخالفت کی آڑ میں روح ُاللّٰہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق توہین آمیز کتب لکھ کر دراصل مرزا ملعون نے اپنی جھوٹی نبوت کے لئے راستہ بنانے کی نا پاک سعی کی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سری نگر میں وفات پانے کا افسانہ گھڑنا قرآن و حدیث کا بھی انکار ہے اور عقل وخرد کا دیوالیہ پن بھی۔کوئی عقل مند بتائے کہ اللّٰہ کے نبی کا سری نگر میں آنے کا دوہزار سال تک کسی مفسر و محدث بلکہ کسی مسلمان تک کو پتہ نہیں چلا تو پھر مرزا قادیانی کو کیسے علم ہوگیا؟ پھر ذرا سوچئے کہ اللّٰہ کا نبی دشمنوں کے خوف سے چھپ کر گوشۂ گمنامی میں زندگی گزار دے، یہ اللّٰہ تعالیٰ کے غالب ہونے کی دلیل ہے یا اس کے دشمنوں کے؟

اللّٰہ تعالیٰ کے ارشاد’’اللّٰہ غالب حکمت والا ہے‘‘کا تقاضا یہی ہے کہ یہودی اللّٰہ کے نبی کو شہید ہی نہ کرسکیں اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے نبی کو زندہ آسمان پر اُٹھا لے۔ اللّٰہ کا قرآن سچا ہے، مرزا دجال جھوٹا ہے۔

ایک اور آیت ملاحظہ ہو:

{اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا}

 ’’یاد کرو جب اللّٰہ نے فرمایا، اے عیسیٰ! میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھا لوں گا اور تجھے کافروں سے پاک کردوں گا‘‘۔

امام رازی علیہ الرحمہ اس کے تحت تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں، ’’{مُتَوَفِّیْکَ} کا معنی ہے کہ میں تمہاری عمر کو پورا کرنے والا ہوں۔ میں تمہیں زمین میں نہیں چھوڑوں گا کہ وہ تمہیں قتل کریں بلکہ اپنی طرف اُٹھالوں گا‘‘۔

علماء فرماتے ہیں، {مُتَوَفِّیْکَ} ’’وَفَی‘‘ سے مشتق ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو پورا کرنایا پورا دینا۔جیسے ہم کہتے ہیں، ایفائے عہد یعنی وعدہ پورا کرنا۔

قرآن کریم سے چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے۔

{وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ} ’’اور جب تم ناپو تو پورا ناپو‘‘۔

{فَیُوَفِّیْھِمْ اُجُوْرَھُمْ} ’’اُنہیں اُن کا پورا اجر دے گا‘‘۔

مزید ارشاد ہوا،

{ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ} ’اور ہر جان کو اس کی کمائی کا پورا پورابدلہ دیا جائے گا‘‘۔

یہ بھی ارشادہے،

{وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ} ’’اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے‘‘۔

توفی کا حقیقی معنی ہے کسی چیز کو مکمل طور پر لے لینا۔اس کا حقیقی معنی کسی صورت موت نہیں ہوسکتا۔موت پرمجازاً وفات کا اطلاق اس لئے کیا جاتا ہے کیونکہ موت زندگی کی مدت پوری ہونے پر آتی ہے۔

قرآن مجید میں موت کے علاوہ نیند پر بھی مجازاً وفات کا اطلاق کیا گیا ہے۔ 

Share:
keyboard_arrow_up