’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا‘‘۔
خدارا سچے دل سے توبہ کیجیے اور سچا دین اسلام قبول کر کے جہنم سے بچ جائیے۔
باب ہفتم:
حیاتِ مسیح بن مریم علیہما السلام: اس مسئلہ کو سمجھنے سے پہلے ایک بنیادی بات سمجھنا بہت ضروری ہے، وہ یہ کہ اس مسئلہ کا ختم نبوت کے مسئلے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ قرآن واحادیث سے صریحاً ثابت ہے کہ نبی کریم سب نبیوں سے آخری نبی ہیں لہٰذا آپ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہوسکتا۔امت کا اجماع ہے کہ ختم نبوت کا منکر کافر ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمانوں پر اُٹھایا جانا اور قیامت کے قریب نازل ہونا قطعی دلائل سے ثابت ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{وَّقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا o بَلْ رَّفَعَہ ُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا}
’’اور اُن کے اِس کہنے پر (ہم نے یہود پر لعنت کی) کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم، اللّٰہ کے رسول کو شہید کیا، اور (حالانکہ)ہے یہ کہ انہوں نے نہ اُسے قتل کیا اور نہ اُسے سولی دی بلکہ اُن کے لئے اُن کی شبیہ کا ایک بنا دیاگیا، اور وہ جو اس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں اُس کی کچھ بھی خبر نہیں مگر یہی گمان کی پیروی۔ اور بے شک انہوں نے اُسے قتل نہیں کیا بلکہ اللّٰہ نے اُسے اپنی طرف اُٹھا لیا، اور اللّٰہ غالب حکمت والا ہے ‘‘۔
(کنزالایمان) ان آیاتِ مقدسہ سے بالکل واضح ہے کہ یہود کا محض گمان ہے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوقتل کردیا یا سولی پر لٹکا دیاحالانکہ یہ معاملہ یہود پر مشتبہ کردیا گیا۔ وہ اس طرح کہ ان کے ایک مخلص حواری یا کسی منافق کو عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ کردیا گیااور یہود نے اسے عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا۔جیسا کہ مختلف روایات میں آیا ہے۔
عیسائیوں نے بھی یہی گمان کر لیا حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللّٰہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔ ان میں اختلاف یہ ہوا کہ جو منافق عیسیٰ علیہ السلام کی نشاندہی کے لئے گھر میں پہلے داخل ہوا ، اسے اُن سے مشابہ بنا دیا گیا۔ جب یہودوہاں داخل ہوئے تو اُسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شبہ میں قتل کردیا۔ پھر ان میں اختلاف ہو گیا کہ اگر یہ حضرت عیسیٰ ہیں تو ہمارا آدمی کہاں ہے اور اگر یہ ہمارا آدمی ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کہاں گئے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ قتل کرنا یا صلیب پرچڑھانا جسم ہی کاممکن ہے روح کا نہیں۔ثابت ہوا کہ جس جسم کوانہوں نے قتل نہیں کیا اور صلیب پر نہیں چڑھایا ،اسی جسم کو اللّٰہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اُٹھا لیا۔ چونکہ یہ بات بظاہر ناممکن لگتی ہے کہ کوئی زندہ آسمان پر اُٹھا لیا جائے۔
اسی لئے قرآن عظیم میں ارشاد ہوا، ’’اللّہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے ‘‘۔پس وہ جو چاہے کرے، اس کے لئے کوئی بات مشکل اور ناممکن نہیں۔
ایک اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہود پر لعنت کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں ، عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا گیا یا سولی چڑھا دیا گیا۔ پس جو یہ کہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مقتول یا مصلوب ہوئے ، وہ لعنتی ہے۔

