Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 81 of 115

چونکہ مرزا کی یہ پیش گوئی بھی پوری نہ ہوئی لہٰذا مرزا قادیانی خود اپنے فیصلے کے مطابق تمام شیطانوں اور بدکاروں سے زیادہ لعنتی قرار پایا۔

3۔ مولوی ثناء اللّٰہ کی موت: مولوی ثناء اللّٰہ امرتسری اپنے رسالے ’’اہلحدیث‘‘ میں مرزا پرخوب تنقید کیا کرتے تھے۔ مرزا دجال نے اپنی عادت سے مجبور ہو کر مولوی ثناء اللّٰہ کی موت کی بھی پیش گوئی کردی حالانکہ اسے اپنی ’’نبوت‘‘ کا بھی خوب اندازہ تھا اور سابقہ پیش گوئیوں کا بھی، مگر جواری ہر جُوا، اِسی امید پر کھیلتا ہے کہ شاید اِس بار جیت اس کا مقد ر ہو۔ مرزا نے ایک اشتہار میں مولوی ثناء اللّٰہ کو مخاطب کر کے لکھا،

’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہوجاؤںگا۔اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں، بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ‘‘۔

مرزا نے یہ اشتہار ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو شائع کیا اور ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو خدا تعالیٰ کے عذاب ’’ہیضے‘‘ میں مبتلا ہو کر دنیا کے لئے عبرت کا نشان بن گیا۔جبکہ مولوی ثناء اللّٰہ مرزا کی موت کے بعد ۳۹ سال زندہ رہے۔ خود مرزا کے اپنے قول کے مطابق ثابت ہوگیا کہ مرزا کذاب اور مفتری تھا اور خدا کی طرف سے نہیں تھا۔

4۔ مرزا کی عمر 80 سال: مرزا  نے ’’مواہب الرحمن‘‘ صفحہ ۲۱ پر اپنی عمر کے متعلق ایک پیش گوئی یہ کی، ’’اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے اَسّی سال کی عمر دی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ‘‘۔

دوسری جگہ ایک اشتہار میں لکھا، ’’اور پھر آخر میں اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر بڑھا دوں گا یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ۱۹۰۷ء میں۱۴ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں ان سب کو جھوٹا کردوں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا‘‘۔

مرزا کی پہلی پیشگوئی کے مطابق اس کی عمر ۸۰ سال سے زیادہ ہونی چاہیے تھی اور دوسری پیشگوئی کے مطابق مرزا کو ستمبر ۱۹۰۸ء کے بعد تک زندہ رہنا چاہیے تھا مگر مرزا ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو ۶۸ سال کی عمر میں مر گیا اور یوں اس کی دیگر پیش گوئیوں کی طرح یہ دونوں پیش گوئیاں بھی غلط ثابت ہوئیں۔

5۔ مرزا قادیانی نے ایک موقع پر دعویٰ کیا کہ: ’’ہم مکہ میں مریں گے یامدینہ میں‘‘۔

مکہ یا مدینہ میں مرنا تو درکنار، مرزا دجال ساری عمر وہاں داخل ہی نہ ہوسکا۔ اور بیت الخلا میں عبرتناک موت مر کرقادیان میں دفن ہوا۔

قادیانیوں کو دعوتِ فکر: اِس پُرفتن دور میں بھی کئی گناہگار مسلمان ایسے ہونگے جن کی کوئی نہ کوئی پیش گوئی رب تعالیٰ پوری فرما کر اُن کے کہے کی لاج رکھ لیتا ہے۔مرزا  نے ہر پیش گوئی بڑے طمطراق سے کی مگر رب ذوالجلال نے ہر بار مرزا دجال کی پیش گوئی کو جھوٹا ثابت کیا تاکہ مرزا اوراس کے ماننے والوں پر مرزا کا گمراہ اور باطل ہونا واضح ہوجائے۔

قادیانی ضد اور تعصب سے ہٹ کر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور فرمائیں کہ کیا مرزا کی مذکورہ مشہور پیش گوئیاں غلط ثابت نہ ہوئیں؟ نہ محمدی بیگم کا شوہر مرا اور نہ وہ بیوہ ہو کر مرزا کے نکاح میں آئی، پادری آتھم مقرر ہ میعاد ختم ہونے کے باوجود زندہ رہا، مولوی ثناء اللّٰہ کی زندگی میں مرزا جی ہیضے میں مبتلا ہو کر مرے جوکہ ان کے بقول خدا کا عذاب تھا، مرزا کی عمر80 سال تو کیا 70سال بھی نہ ہوسکی۔ کیا مذکورہ پیش گوئیوں کے غلط ہونے سے مرزا کا کذاب ودجال ہونا ثابت نہ ہوا کیونکہ ان پیش گوئیوں کو خود مرزا نے اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کا اصل معیار قرار دیا تھا۔

Share:
keyboard_arrow_up