Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 80 of 115

بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق وکذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا‘‘۔

مرزا نے اس نکاح کی خاطر کئی طرح کے پاپڑ بیلے تاکہ ان کی الہامی پیش گوئی کا پول نہ کھل جائے۔ لڑکی کے گھر والوں کو کئی الہامی دھمکیاں دیں، کئی قسم کے لالچ دیے، منت سماجت بھی کی مگرسب بے سود۔لڑکی کے والد نے اپنے ایک عزیز مرزا سلطان محمد سے لڑکی کا رشتہ طے کردیا۔۷ اپریل ۱۸۹۲ ء کو محمدی بیگم کا نکاح ہوگیا۔ قادیانی بتائیں کہ اگر مرزا صاحب واقعی ان کے سچے نبی تھے تو ڈھائی سال کے اندر یعنی ۶ اکتوبر ۱۸۹۴ء تک محمدی بیگم کے شوہر کو فوت ہوجانا چاہیے تھا اور تین سال تک اس کے والد کو۔اور پھر محمدی بیگم کو بیوہ ہوکر مرزا کے نکاح میں آجانا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ مرزا کی کوئی پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔چونکہ مرزا کذاب نے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کو اپنی نبوت کی دلیل قرار دیا تھااور یہاں تک کہہ دیا تھاکہ: ’’میں باربار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ (مرزاسلطان محمدکی موت) کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کاانتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی‘‘۔

اور ایک اشتہار میں یہ تک لکھ دیا کہ : ’’اگراے خداوند! یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردودو ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کردے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا اور تمام دشمنوں کو خوش کر‘‘۔

خدا تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ نہ سلطان محمد فوت ہوا ،نہ محمدی بیگم بیوہ ہو کر مرزا دجال کے نکاح میں آئی۔ ہاں! خود مرزا نے جھوٹا ہونے کی صورت میں جو سزا اپنے لئے تجویز کی تھی اس کے مطابق مرزا ذلت کے ساتھ پاخانے میں ہلاک ہوا اور مسلمانوں کی لعنتوں کا نشانہ بنا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک بھی مردود، ملعون اور دجال ہی تھا۔

2۔ پادری آتھم کی موت: مرزا قادیانی کا ایک عیسائی پادری عبداللّٰہ آتھم سے مسلسل پندرہ روز تک مباحثہ ہوتا رہا اور مرزا اسے شکست نہ دے سکا تو مرزا نے شرمندگی مٹانے کے لئے یہ الہامی پیش گوئی کر دی : ’’میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی جو فریق خدا تعالیٰ کے ہاں جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ سے سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔

مجھے ذلیل کیا جائے، رُوسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسا ڈال دیا جائے، مجھے پھانسی دی جائے۔میں اللّٰہ تعالیٰ کی قسم اُٹھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا ضرور کرے گا۔ زمین وآسمان ٹل سکتے ہیں پر اُس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو‘‘۔

مرزا نے یہ پیش گوئی ۵ جون ۱۸۹۳ء کو شائع کی ۔چنانچہ اس پیش گوئی کے مطابق پادری آتھم کو ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء تک مر جانا چاہیے تھا۔مقررہ تاریخ قریب آنے پر مرزا اور اس کے متبعین پادری آتھم کی موت کی دعائیں مانگتے رہے اور مرزا نے کئی ٹونے ٹوٹکے بھی کئے مگر آتھم زندہ رہا۔

عیسائیوں نے فتح کا جشن منایا اور آتھم کو جلوس کی صورت میں بازاروں میں گھمایا۔رحیم بخش قادیانی لکھتا ہے، ’’میں نے امرتسر جاکر عبداللّٰہ آتھم کو خود دیکھا، عیسائی اسے گاڑی میں بٹھائے بڑی دھوم دھام سے بازاروں میں لئے پھرتے تھے۔ لیکن اسے دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ واقع میں یہ مر گیا ہے اور یہ صرف اس کا جنازہ ہے جسے لئے پھرتے ہیں، آج نہیں تو کل مر جائے گا‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up