Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 79 of 115

مرزا اپنے الہام کا مطلب ایک ہندو سے پوچھتا تھا۔ لکھتا ہے،’’چونکہ اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ہندو لڑکے سے دریافت کئے مگر قابلِ اطمینان نہیں‘‘۔

مرزا کذاب، دوعجیب سے فقرے لکھ کرکہتا ہے،’’ یہ فقرے شاید عبرانی ہیں، ان کے معنی ابھی تک اس عاجز پرنہیں کھلے‘‘۔

خدارا انصاف! کیا یہ نبی کی شان ہوتی ہے؟ مرزا کذاب کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ الہام کس زبان میں ہوا ہے۔چونکہ مرزا کے بقول کسی اور زبان میں الہام ہونا بیہودہ بات ہے لہٰذاسچ یہی ہے کہ مرزا کے الہامات بیہودہ اور جھوٹ ہیں۔ مرزا کذاب نے یہ بھی اقرار کیا ہے کہ: ’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق‘‘۔

مرزا کے صرف الہام ہی جھوٹ نہیں بلکہ اس کا اکثر کلام ہی جھوٹ پر مبنی ہے ۔مرزا اپنی کتاب’’شہادۃ القرآن‘‘ کے صفحہ۴۱پر لکھتا ہے، ’’بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اُس کے لئے آواز آئے گی کہ ’’ہذا خلیفۃ اللّٰہ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پائے اور مرتبے کی ہے جو اُس کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعداز کتاب اللّٰہ ہے‘‘۔ جبکہ بخاری شریف میں ایسی کوئی حدیث موجود نہیں۔ ایک اور جگہ لکھتا ہے، ’’ہمارے نبی اکرم کو بعض پیش گوئیوں میں خدا کر کے پکارا گیا ہے‘‘۔

کیا کوئی قادیانی بتا سکتا ہے کہ حضورِ اکرم کو کہاں خدا کہہ کر پکارا گیا ہے؟

تمام قادیانی جمع ہو کر بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے؛ تو پھر انہیں چاہیے کہ ایسے جھوٹے کے شر سے بچیں۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا دجال واقعی کذاب ہے۔

مرزا کی پیشین گوئیاں: انبیاء کرام علیہم السلام کی زبان وحی ٔ الٰہی کی ترجمان ہوتی ہے اس لئے ہر نبی کی ہر پیشین گوئی پوری ہوتی ہے۔مرزا خود بھی یہ بات مانتا ہے کہ جھوٹے کی پیشین گوئی پوری نہیں ہوا کرتی جبکہ سچے نبی کی ہر پیشین گوئی پوری ہوتی ہے۔

وہ لکھتاہے، ’’جو شخص اپنے دعوی میں کاذب ہو ، اس کی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی‘‘۔

’’اگر ثابت ہو کہ میری ۱۰۰ پیشین گوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی ہو تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں‘‘۔

اگرچہ یہ ایک الگ بحث ہے کہ کسی صحیح العقیدہ مسلمان کی پیش گوئی پوری ہوجائے تو اسے کرامت کہا جائے گا اور اگر کسی گمراہ و بدمذہب کی پیش گوئی پوری ہوجائے تو اسے استدراج کہیں گے۔

البتہ کسی کی پیش گوئی پوری ہونا یا اس کا الہام سچا ہونا اسے کسی طور بھی نبی ثابت نہیں کرسکتا۔

1۔ محمدی بیگم سے شادی: مرزا قادیانی بڑھاپے میں اپنے خاندان کی ایک 13 سالہ لڑکی محمدی بیگم کی محبت میں گرفتار ہوگئے۔۱۰ جولائی ۱۸۸۸ ء کو 48 سالہ مرزا نے محبت سے مجبور ہو کر یہ الہامی پیش گوئی ایک اشتہار میں شائع کروادی۔ ’’اس قادرِ مطلق نے مجھ سے فرمایا ہے کہ اس شخص (یعنی مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے لئے سلسلہ ٔ جنبانی کر۔

اگر اس (احمد بیگ) نے اس نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسے ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہوجائے گا۔

پھر ان دنوں زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ مکتوب الیہ (احمد بیگ) کی دختر کلاں کو ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا۔

Share:
keyboard_arrow_up