Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 78 of 115

’’میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا، ابوبکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے‘‘۔

مرزا ملعون ، مولا علی المرتضیٰ کی توہین کرتے ہوئے لکھتا ہے، ’’پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو،ایک نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔‘‘

مرزا ملعون نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی توہین کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں‘‘۔

مرزا دجال نے نواسۂ رسول، سیدنا امام حسین کی شان میں یوں توہین کی، ’’مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے‘‘۔

’’اے قومِ شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا) ہے کہ اُس حسین سے بڑھ کر ہے‘‘۔

’’تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے۔پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے،کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے‘‘۔

مرزا دجال نے امام حسین کے متعلق یہ توہین آمیز شعر کہا، کربلائے است سیر ِ ہر آنم صد حسین است در گریبا نم

مفہوم یہ ہے کہ میری سیر ہر آن کربلا میں ہے اور میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔ مرزا محمود قادیانی کہتا ہے، ’’یہ تو ادنیٰ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود امام حسین کے برابر تھے یا ادنیٰ، امام حسین ولی تھے مگر ان کو وہ غم اور صدمہ کس طرح پہنچ سکتا ہے جو اسلام کو مٹتا دیکھ کر حضرت مسیح موعود کو ہوا‘‘۔

مسلمانوں کو گالیاں: مرزاقادیانی اگرچہ یہ کہتا تھا کہ گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریقِ شرافت نہیں۔

کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔

اس کے باوجود مرزا نے اپنے مخالفین کو جی بھر کے فحش گالیاں دیں۔مرزا نے لکھا، ’’یہ مولوی جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح مردار کھاتے ہیں‘‘۔

مرزا کذاب ،عام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے،’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں‘‘۔

’’میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے نفع پاتا ہے اور میری دعوت قبول کرتا ہے سوائے کنجریوں کی اولاد کے جن کے دلوں پر اللّٰہ نے مہر لگا دی ہے، وہ نہیں مانتے‘‘۔

’’جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے‘‘۔

’’جو شخص میری فتح کا قائل نہ ہوگا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے‘‘۔

مرزا دجال نے ایک کتاب میں اپنے ایک مخالف کے لئے ایک ہزار بار مسلسل لعنت لعنت لعنت کا لفظ لکھا ہے۔

ذرا سوچئے! کیا یہ زبان اور یہ کردار کسی شریف انسان کا ہو سکتا ہے چہ جائیکہ وہ مہدی ونبی ہونے کا مدعی ہو؟؟

جو شخص انبیاء کرام اور صحابہ کا گستاخ ہو وہ عام مسلمانوں کے متعلق کوئی بھی غلیظ زبان استعمال کرے، تعجب نہیں۔

مرزا کی وحی والہام: مرزا کی وحی والہامات کا حال بھی نہایت عجیب وغریب ہے۔ مرزا خود لکھتا ہے، ’’یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہ سکتا ہو‘‘۔

مرزا نے خود اپنے الہامات و وحی کے متعلق یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے، ’’زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں ہے جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up