مزید کہا، ’’اگر بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے، دس لاکھ سے زیادہ ہونگے‘‘۔
مرزا دجال نے ایک چال یہ چلی کہ جو آیات قرآن کریم میں رسولِ معظم کی شانِ اقدس میں ہیں، اُنہیں اپنے اوپر چسپاں کرلیا۔
چند مثالیں ملاحظہ ہوں: اس نے آیت {وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ} سے خود کو مرادلیا ہے۔
وہ کہتا ہے،{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ} ’’تجھ کو تمام جہان کی رحمت کے واسطے روانہ کیا‘‘۔
وہ لکھتا ہے، مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے،
{ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}
’’{مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ} اس وحی ٔ الٰہیٰ میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی‘‘۔
{وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ} {وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی}
{قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ}
{سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ} {اِنَّا فَتَحْنَالَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا} {اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ} {اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ} {یٰسٓo وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِoاِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ}
قرآن وحدیث کی توہین: مرزا دجال نے اسی طرح کئی آیات اپنی طرف منسوب کیں اور کئی آیات کے الفاظ بدل ڈالے جس سے اس کی جہالت وخباثت کا اندازہ ہوتا ہے۔
مثلاً: سورۃ الحج آیت ۵۲… (ازالہ اوہام :۶۲۹)،سورۃ التوبۃ آیت ۴۱ (جنگ مقدس :۱۹۴)،سورۃ الانفال آیت ۲۹ وغیرہ۔ وہ ایک خود ساختہ الہام میں کہتا ہے،’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں‘‘۔
’’انا انزلنٰہ قریبًا من القادیان فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ شاید قریب نصف کے موقع پر بھی یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے‘‘۔
قرآن مجید نے حضرت مریم علیہا السلام کو ’’صدیقہ‘‘فرمایا ہے جبکہ مرزا کہتا ہے، ’’اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگانِ قوم کے اصرار پر بوجہ حمل کے نکاح کر لیا‘‘۔
مرزا کذاب، احادیثِ رسول کی توہین کرتے ہوئے کہتا ہے، ’’میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں، قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض (مخالف) نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں‘‘۔
یہ ہے دجال، قرآن وحدیث کا گستاخ،جو لکھتا ہے، ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات، انجیل اور قرآن پر‘‘۔
مرزائی خود فیصلہ کریں کہ قرآن وحدیث پر ایمان بہتر ہے یا مرزا دجال پر؟
شانِ صحابہ واہلبیت میں گستاخیاں: مرزا کذاب اپنے پیروکاروں کو صحابی بننے کی بشارت دیتا ہے۔ اس نے لکھا، ’’جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا ، دراصل سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا‘‘۔
مرزا دجال نے خود کو سیدنا ابوبکر اور بعض انبیاء سے بہتر قرار دیا۔لکھتا ہے،

