Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 76 of 115

مرزا کے ایک شعر کا ترجمہ یہ ہے، ’’ہر نبی میری آمد سے زندہ ہوگیا، ہر رسول میری قمیص میں چھپا ہوا ہے‘‘ ۔

امام الانبیاء کی شان میں گستاخی: مرزادجال نے حبیبِ کبریاء،امام الانبیاء کی شانِ اقدس میں بھی بے شمار گستاخیوں کا ارتکاب کیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتاہے، حضرت رسولِ خدا کے الہام و وحی غلط نکلی تھیں۔

’’خدا تعالیٰ نے آج سے ۲۶ برس پہلے میرا نام براہینِ احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت کا بروز مجھے قرار دیا ہے‘‘۔

’’اسی لئے اس (مرزا) کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کوہی ملی، گو بروزی طور پر مگر کسی اور کو‘‘۔

’’اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (یعنی مرزا)کوتم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی‘‘۔

مرزا کا بیٹا مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے، ’’اور چونکہ مشابہتِ تامہ کی وجہ سے مسیح موعود (یعنی مرزاقادیانی) اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں‘‘۔

’’پس مسیح موعود (مرزا) خود محمد رسول اللّٰہ ہے جو اشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللّٰہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی‘‘۔

’’مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوتِ محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کرلیا اور اس قابل ہوگیا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لاکھڑا کیا‘‘۔

’’اُس (رسولِ اکرم ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا؟‘‘۔

مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان نے کہا،’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللّٰہ سے بھی بڑھ سکتا ہے‘‘۔

مولوی عمر الدین قادیانی لاہوری نے لکھا ہے، جناب خلیفہ صاحب(مرزا محمود)کے معارف میں سے یہ نکتۂ معرفت قادیان سے شائع ہوا کہ انسان ترقی کرتے کرتے آنحضرت سے بھی بڑھ سکتا ہے اور جب قادیانی حضرات کو اس سے توبہ کرنے کو کہا گیا اور سمجھایا گیا کہ یہ کلمہ کسی طرح بھی صحیح نہیں تو مقلدین نے یہ کہنا شروع کیا کہ جناب کبھی شاگرد بھی استاد سے بڑھ جایا کرتا ہے۔ اور جب یہ سمجھایا گیا کہ شاگرد تب ہی استاد سے بڑھ سکتا ہے جب کہ استاد ناقص ہو، ورنہ کامل استاد سے کوئی بڑھ سکتا ہی نہیں۔(تو بھی نہ مانے)

افسوس کہ آج دیوبندی ’’ختم نبوت‘‘ کا بڑا دَم بھرتے ہیں اور مذکورہ عقیدہ کفریہ بتاتے ہیں حالانکہ اس عقیدہ کی بنیادبھی بانی دیوبند مولوی قاسم نانوتوی نے ہی رکھی تھی۔ ان کی بدنامِ زمانہ کتاب تحذیر الناس صفحہ ۷ملاحظہ ہو، وہ لکھتے ہیں،

’’انبیاء اپنی امت سے اگر ممتاز ہوتے ہیں توعلوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں باقی رہا عمل ، اس میں بسا اوقات بظاہر امتی مساوی ہوجاتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔‘‘

مرزا کذاب نے نبی کریم کے معجزات تین ہزار بتائے۔

اور اپنے معجزات کے متعلق یہ دعویٰ کیا، ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں‘‘۔

مرزا نے یہ دعویٰ کیا کہ اس قدر کثیر معجزات کسی اور نبی کو نہیں ملے۔

Share:
keyboard_arrow_up