’’یہود تو حضرت عیسیٰ کے معاملہ میں اور ان کی پیش گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں۔
بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ’’ضرور عیسیٰ نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی بلکہ ابطالِ نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں‘‘۔
اس کلام میں یہودیوں کے اعتراض صحیح ہونا بتایا اور ساتھ ہی قرآن عظیم پر بھی یہ اعتراض جڑ دیا کہ قرآن ایسی بات کی تعلیم دے رہا ہے جس کے باطل ہونے پر دلیلیں قائم ہیں۔
اس کتاب کے صفحہ ۱۴ پر لکھتا ہے، ’’عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں مگر یہاں نبوت بھی ان کی ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں‘‘۔
اس عبارت میں واضح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار ہے۔مرزا دجال نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ایسی دل دہلا دینے والی باتیں لکھی ہیں کہ جنہیں پڑھ کر بے اختیار مرزا کو لعنتی ، مردود اور جہنمی کہنے کو جی چاہتا ہے۔
ملاحظہ کیجیے: ’’مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اُس کے سر پر عطر ملاتھا ،یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اُس کے بدن کو چھؤا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی‘‘۔
’’آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے، ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے‘‘۔
نیز اس رسالہ میں اُس مقدس و برگزیدہ رسول پر اور نہایت سخت سخت حملے کئے۔ مثلاً شریر، مکار، بدعقل، فحش گو، بدزبان، جھوٹا، چور، خللِ دماغ والا، بدقسمت، نرا فریبی، پیر وشیطان۔
حد یہ کہ صفحہ ۷ پر لکھا، ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہرہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا‘‘۔ ہر شخص جانتا ہے کہ دادی باپ کی ماں کو کہتے ہیں تو اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے باپ کا ہونا بیان کیا جو قرآن کے خلاف ہے۔
دوسری جگہ تصریح کر دی، ’’یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور بہنیں تھیں یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھے‘‘۔(نعوذ باللہ من ہٰذہ الخرافات)
کیا ایسے شخص کے کافر، مرتد، بے دین ہونے میں کسی مسلمان کو شک ہو سکتا ہے؟ جو اِن خباثتوں پر مطلع ہو کر اُس کے عذاب وکفر میں شک کرے، وہ خود کافر ہے۔
امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ کسی بھی نبی کی توہین کفر ہے۔
مرزا کذاب نے نہ صرف علانیہ انبیاء کرام کی توہین کی بلکہ خود کو تمام انبیاء کرام کا مظہر بلکہ ان سے افضل و بہتر بتاکر مزید گستاخی کا ارتکاب کیا۔وہ لکھتا ہے، ’’خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں‘‘ ۔
’’میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمد ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیے، میری نسبت جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول پیرایوں میں۔ سو ضرور ہے کہ ہر نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو‘‘۔

