Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 74 of 115

ہمارے آقا ومولیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے،

’’بیشک میں تمام دنیا کی خاک کے ذروں کے برابر گواہیاں دیتا ہوں کہ مسیلمہ کذاب ہے‘‘۔

یارسول اللّٰہ!میں بھی آپ کے ساتھ گواہی دیتا ہوں، اور سیدنا محمد رسول اللّٰہ کی بارگاہِ عالم پناہ کا یہ ادنیٰ کتا، زمین کی تمام ریت کے ذروں اور آسمان کے تمام ستاروں کے برابرگواہی دیتا ہے اور میرے ساتھ زمین وآسمان وعرش کے تمام فرشتے اور خود عرشِ عظیم کا مالک گواہ ہے کہ ان اقوالِ مذکورہ کا قائلِ بیباک، کافر مرتدناپاک ہے۔

مرزا کی بارگاہِ الٰہی میں گستاخیاں: مرزا قادیانی نے اپنی زبان وقلم سے بارگاہِ الٰہی ، شانِ مصطفیٰ اور دیگر محبوبانِ خدا کے متعلق اس قدر گستاخیاں کی ہیں جو ناقابلِ بیان ہیں۔ نقلِ کفر کفر نباشد کے مصداق بعض گستاخانہ کلمات اس لئے نقل کررہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو قادیانی کذاب کا اصل روپ دکھایا جا سکے اور لوگ اس مردود کے شر سے بچیں۔ مرزا ملعون نے خود کو خدا کا بیٹا قرار دیا اور ایک من گھڑت الہام یہ لکھا، ’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘ ۔ ’’تو مجھ سے بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے‘‘۔’انت منی بمنزلۃ اولادی، انت منی وانا منک‘‘ ۔ ’’یعنی اے غلام احمد!تو میری اولاد کی جگہ ہے، تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے‘‘۔

مرزا کذاب نے ایک جگہ خود کو کُنْ فَیَکُوْن کے مقامِ اُلوہیت پر فائز قرار دیا، ’’انما امرک اذا اراد شیئا تقول لہ کن فیکون‘‘۔ ’’تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فوراً ہوجاتی ہے‘‘۔

پھر مرزا کذاب نے مزید غلو کرتے ہوئے خود خدا ہونے کا دعویٰ کر دیا، ’’ورأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ہو‘‘۔ ’’میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں‘‘۔

شانِ انبیاء میں گستاخیاں: شانِ انبیاء کرام میں مرزا دجال کی چند گستاخیاں ملاحظہ ہوں۔ ’’حضرت موسیٰ کی پیش گوئیاں بھی اُس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں، جس صورت پر حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امید باندھی تھی، غایت مافی الباب(یعنی اس بارے میں نتیجہ)یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں زیادہ غلط نکلیں‘‘۔

مرزا نے انبیاء کرام کے معجزات کو مسمریزم کہا جبکہ مسمریزم آسٹریا کے ڈاکٹر مسمر کا ایجاد کردہ علم ہے جس میں خیال کا اثر دوسرے پر ڈال کرباتیں پوچھی جاتی ہیں۔

سورۂ بقرہ میں جو ایک قتل کا ذکر ہے کہ گائے کی بوٹیاں نعش پر مارنے سے وہ مقتول زندہ ہوگیا تھا اور اپنے قاتل کا پتہ بتا دیا تھا، یہ محض حضرت موسیٰ کی ایک دھمکی تھی اور درحقیقت مسمریزم کا عمل تھا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چار پرندے زندہ کرنے کے معجزے کا ذکر جو قرآن شریف میں ہے ، اسے بھی مرزا نے مسمریزم قرار دیا۔

مرزا کذاب نے اولو العزم رسولوں کا ہادی ہونا درکنار، مکمل ہدایت یافتہ ہونا بھی نہ مانا۔اور لکھا،’’حقیقی اور کامل مہدی نہ موسیٰ تھااور نہ عیسیٰ‘‘۔

مرزا ،انبیاء کرام کی عصمت کا منکر تھا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھتا ہے، ’’کبھی کبھی آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے‘‘ ۔

قرآن عظیم سے پوچھیے کہ شیطانی الہام کس کو ہوتا ہے؟ قرآن فرماتا ہے، {تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ }’’بڑے بہتان والے سخت گناہگار پر شیطان اُترتے ہیں‘‘۔

مرزا ملعون حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے خباثت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ان کی نبوت کا انکار کر بیٹھا۔ وہ لکھتا ہے،

Share:
keyboard_arrow_up