Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 73 of 115

اور اس کے بعد فرمایا،

{اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ}

 ’’ بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو‘‘۔پھر دوبارہ مزید فرمایا،{وَجِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاتَّقُوااللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ} ’’اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں۔ تو اللّٰہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو‘‘۔ مگر جو عیسیٰ کے رب کی نہ مانے وہ عیسیٰ کی کیوں ماننے لگا؟ (علیہ السلام )پھر ان معجزات کو مکروہ جاننا دوسرا کفر ہے ۔

اگر کراہت اس بناء پر ہے کہ وہ فی نفسہٖ مذموم کام تھے ، جب تو کفر ظاہر ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے رسولوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دینے کے بیان میں ارشاد فرمایا،

{وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ}

’’اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو معجزے دیے اور جبرئیل سے اس کی مدد فرمائی‘‘۔

اور اگر کراہت اس بناء پر ہے کہ وہ کام اگرچہ فضیلت کے تھے مگر میرے اعلیٰ منصب کے لائق نہیں، تو یہ نبی پر اپنی فضیلت بتانا ہے اور یہ بھی کفر و ارتداد ہے۔اور پھر ان شیطانی کلمات میں حضرت مسیح کلمۃاللہ علیہ السلام کی تحقیر تیسرا کفر ہے۔ اور ایسی ہی تحقیر کفر ششم میں تھی اور سب سے بڑھ کر تحقیر کفر نہم میں ہے۔

کفر نہم: ’’ازالۂ اوہام‘‘ صفحہ ۱۶۱ پر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت لکھا، ’’بوجہ مسمریزم کے عمل کرنے کے تنویرِ باطن اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجے پر بلکہ قریب ناکام رہے‘‘۔

اللّٰہ کے نبیوں کے دشمنوں پر اللّٰہ کی لعنت۔ اوراللّٰہ تعالیٰ کی رحمتیں ، برکتیں اور سلام ہوں اُس کے انبیاء پر۔مسلمانو! یقین رکھو کہ ہر نبی کی تحقیر مطلقاً قطعی کفر ہے۔

کفر دہم: ’’ازالۂ اوہام‘‘ صفحہ ۶۲۹ پرلکھتا ہے، ’’ایک زمانے میں چارسو نبیوں کی پیشگوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹے‘‘۔

یہ صراحۃً انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب ہے۔ائمہ فرماتے ہیں کہ جو کسی نبی کی لائی ہوئی بات میں کذب جائز مانے اگرچہ وقوع نہ جانے، باجماع کفر ہے۔ دراصل یہ اس ملعون کی پیش بندی ہے کہ یہ کذاب اپنی بڑ میں ہمیشہ پیش گوئیاں ہانکتا رہتا ہے اور بعنایتِ الٰہی وہ آئے دن جھوٹی ثابت ہوتی ہیں۔ یہ کذاب یہاں بتانا چاہتا ہے کہ پیش گوئی غلط ہوجائے تو یہ شانِ نبوت کے خلاف نہیں(معاذ اللّٰہ) کیونکہ اگلے انبیاء میں بھی ایسا ہوتا تھا۔

اللّٰہ تعالیٰ عزوجل نے قرآن مجید میں عام کفار کا کفر یوں ہی تو بیان فرمایا ہے، {کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ نِ الْمُرْسَلِیْنَ} ’’نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا‘‘۔ {کَذَّبَتْ عَادُ نِ الْمُرْسَلِیْنَ} ’’عاد نے رسولوں کو جھٹلایا‘‘۔{کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ } ’’ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا‘‘۔  {کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلِیْنَ}’’لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا‘‘۔{کَذَّبَ اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ} ’’بن والوں نے رسولوں کو جھٹلایا‘‘۔ یہ آیات شہادت دے رہی ہیں کہ اس کذاب نے آدم صفی اللّٰہ سے لے کر محمد رسول اللّٰہ تک تمام انبیاء کرام علیہم افضل الصلوٰۃ والسلام کو جھوٹا کہہ دیا کیونکہ ایک رسول کی تکذیب تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔

مذکورہ آیات دیکھو کہ قومِ نوح، قومِ ہود، قومِ صالح، قومِ لوط اور قومِ شعیب علیہم الصلوٰۃ والسلام نے اپنے اپنے ایک ہی نبی کی تکذیب کی تھی مگر قرآن نے فرمایا، قومِ نوح نے سب رسولوں کی تکذیب کی، عاد نے تمام پیغمبروں کو جھٹلایا، ثمود نے جمیع انبیاء کو کاذب کہا،یوں ہی واللّٰہ! اس قائل نے نہ صرف چارسو بلکہ تمام انبیاء ومرسلین کو کذاب مانا۔اللّٰہ تعالیٰ کے کسی نبی کو جھوٹا کہنے والے پر اللّٰہ تعالیٰ کی لعنت۔

Share:
keyboard_arrow_up