Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 72 of 115

پھراعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں،

اس نے ان کلماتِ ملعونہ میں صراحۃً اپنے لئے نبوت ورسالت کا قبیح دعویٰ کیا ہے اور وہ باجماعِ قطعی، کفرِ صریح ہے۔ فقیر نے رسالہ ’’جزاءُ اللہِ عدوہٖ بابا ئہٖ ختمِ النُبوۃ‘‘ اسی مسئلے میں لکھا، اور اس میں آیتِ قرآنِ عظیم اور ایک سو دس حدیثوں اور ایک سو تیس نصوں کو جلوہ دیا اور ثابت کیا کہ محمد رسول اللّٰہ کو خاتم النبیین ماننا ، ان کے زمانہ میں خواہ ان کے بعد کسی جدید نبی کی بعثت کو یقینا قطعاً محال وباطل جاننا فرضِ اجل وجزوِ ایقان ہے۔(السوء والعقاب علی المسیح الکذاب)

کفر پنجم: ’’دافع البلاء‘‘ صفحہ ۱۰ پر حضرت مسیح علیہ السلام سے اپنی برتری کا اظہار کیا ہے۔

کفرششم: اسی رسالے کے صفحہ ۱۷ پر لکھا ہے، ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔

کفرہفتم: اشتہار ’’معیار الاخیار‘‘ میں لکھا،’’میں بعض نبیوں سے بھی افضل ہوں‘‘۔ یہ دعوے بھی باجماعِ قطعی ، یقینی طور پر کفروار تداد ہیں۔شرح بخاری میں ہے، ’’ہر نبی ہر ولی سے افضل ہے اور یہ امر یقینی ہے۔ اور اس کے خلاف کہنے والا کافر ہے اور یہ ضروریاتِ دین سے ہے‘‘۔

کفرہشتم: ’’ازالہ اوہام‘‘ صفحہ ۳۰۹ پر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات کو جن کا ذکر خداوند تعالیٰ بطور احسان فرماتا ہے، مسمریزم لکھ کر کہتا ہے، ’’اگر میں اس قسم کے معجزات کو مکروہ نہ جانتا تو ابن مریم سے کم نہ رہتا‘‘۔ یہ کفر متعدد کفروں کا خمیرہ ہے۔معجزات کو مسمریزم کہنا ایک کفر کہ اس تقدیر پر وہ معجزہ نہ ہوئے بلکہ معاذ اللّٰہ ایک کسبی کرشمہ ٹھہرے۔اگلے کافروں نے بھی یہی کہا تھا۔

سورۃ المائدہ آیت ۱۱۰ میں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،

{وَاِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْھَا فَتَکُوْنُ طَیْرًام بِاِذْنِیْ وَتُبْرِءُ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰی بِاِذْنِیْ وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ عَنْکَ اِذْ جِئْتَھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ}

’’اور جب میں نے تجھے سکھائی کتاب اور حکمت، اور توریت اور انجیل، اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا، پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اُڑنے لگتی، اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شِفا دیتا، اور جب تو میرے حکم سے مُردوں کو زندہ نکالتا، اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا، جب تو اُن کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو اُن میں کے کافر بولے کہ یہ تو نہیں مگر کھلا جادو‘‘۔

مسمریزم بتایا یا جادو کہا، بات ایک ہی ہوئی یعنی الٰہی معجزے نہیں ، کسبی ڈھکوسلے ہیں۔ایسے منکروں کے خیال کو حضرت مسیح علیہ السلام نے بار بار بتاکید رَد فرما دیا تھا۔ {اَنِّیْ قَدْ جِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُم اَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًام بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاُبْرِءُ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ}

’’میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے معجزات لایا ہوں۔میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرندہ ہو جاتی ہے اللّٰہ کے حکم سے۔ اور میں شفا دیتا ہوں مادرزاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو۔ اور میں مُردے زندہ کرتا ہوں اللّٰہ کے حکم سے۔ اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو تم اپنے گھروں میں جمع کر کے رکھتے ہو‘‘۔

 

Share:
keyboard_arrow_up