Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 71 of 115

مرزا کذاب نے اشتہار معیار الاخیار ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۸ پر اپنا الہام یہ تحریر کیا ، ’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے‘‘۔

ثابت ہوا کہ مرزا کذاب کے نزدیک تمام مسلمان کافر اور جہنمی ہیں۔(معاذ اللہ)

قادیانی کفریات: صدرُ الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں، ’’قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں۔ اس شخص نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بیباکی کے ساتھ گستاخیاں کیں۔ خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اللہ وکلمۃ اللّٰہ علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ طیبہ طاہرہ صدیقہ مریم کی شانِ جلیل میں تو وہ بیہودہ کلمات استعمال کئے، جن کے ذکر سے مسلمانوں کے دل دہل جاتے ہیں۔ مگر ضرورتِ زمانہ مجبور کر رہی ہے کہ لوگوں کے سامنے اُن میں کے چند بطور نمونہ ذکر کئے جائیں۔

( مرزا کا)خود مدعیٔ نبوت بننا(ہی اُ س کے)کافر ہونے اور ابدا لآباد  ( ہمیشہ ہمیشہ)جہنم میں رہنے کے لئے کافی تھا کہ یہ قرآن مجید کا انکار اور حضور خاتم النبیین کو خاتم النبیین نہ مانناہے مگر اُس نے اتنی ہی بات پر اکتفا نہ کیا بلکہ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی تکذیب وتوہین کا وبال بھی اپنے سر لیا اور یہ صدہا کفر کا مجموعہ ہے کہ ہر نبی کی تکذیب مستقلاً کفر ہے اگرچہ باقی انبیاء اور دیگر ضروریات کا قائل بنتا ہو، بلکہ کسی ایک نبی کی تکذیب سب کی تکذیب ہے۔

چنانچہ سورۃ الشعراء کی آیت کریمہ {کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِنِ الْمُرْسَلِیْنَ}  وغیرہ اس کی شاہد ہیں۔اور اُس نے تو صدہا کی تکذیب کی اور اپنے کو نبی سے بہتر بتایا۔ ایسے شخص اور اس کے متبعین کے کافر ہونے میں مسلمانوں کو ہرگز شک نہیں ہوسکتا، بلکہ ایسے کی تکفیر میں اُس کے اقوال پر مطلع ہوکر جو شک کرے، وہ خود کافر‘‘۔

۱۳۲۰ھ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے قادیانیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مرزا قادیانی کے بعض کفریہ عقائد تحریر کئے جن کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔

کفر اول: مرزا اپنے رسالے ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ صفحہ ۶۷۳ پر لکھتا ہے، ’’میں احمد ہوں جو آیت {وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ} میں مراد ہے‘‘۔مذکورہ ملعون قول میں صراحۃً دعوی موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن رسول پاک کی جلوہ افروزی کا مژدہ لائے، وہ معاذ اللہ، مرزا قادیانی ہے۔یہ قرآن کریم کے معنی میں صریح تحریف ہے۔اس نے اللّٰہ تعالیٰ پر بہتان باندھا کہ اُس نے عیسیٰ علیہ السلام کو اِس کذاب کی بشارت دینے کے لئے بھیجا۔فرمانِ الٰہی ہے،{اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ} ’’جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو بے ایمان کافر ہیں‘‘۔

کفردوم: ’’توضیح المرام‘‘ طبع ثانی صفحہ ۹ پر لکھتا ہے، ’’میں محدَث ہوں اور محدَث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے‘‘۔

کفرسوم: ’’دافع البلاء‘‘ مطبوعہ ریاض الہند صفحہ ۹ پر لکھتا ہے، ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا‘‘۔

کفرچہارم: ’’ازالۂ اوہام‘‘ صفحہ ۵۳۳ پر لکھا، ’’خدا تعالیٰ نے ’’براہینِ احمدیہ‘‘ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی‘‘۔

 

Share:
keyboard_arrow_up