Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 70 of 115

تعجب ہے کہ وہ ’’اس قدر نشان‘‘ کسی مسلمان کو نظر کیوں نہیں آئے!!! ’’مجھے بتلایا گیا تھا کہ میری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے، {ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}‘‘۔ کوئی مرزائی یہ بتا سکتا ہے کہ اگر ان کا دین حق ہے تواس آیت کے مصداق اب تک یہ دیگر ادیان پر غالب کیوں نہیں آسکا؟؟؟ ’’میں کوئی نیا نبی نہیں، مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں‘‘۔

جب کسی مرزائی سے پوچھا جائے کہ پہلے تو مرزا صاحب حضور کے بعد کسی نبی کے آنے کے عقیدے کو کفر کہتے تھے، اب انہوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کر کے کفر کیوں کیا؟ تو جواب ملتا ہے کہ پہلے انہیں نبوت ملنے کا شعور نہیں تھا۔ پھر تو ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی اپنے پہلے عقیدے کی رُو سے دعویٔ نبوت کے بعد کافر ہوگئے جبکہ نئے عقیدے کی رُو سے وہ شعورِ نبوت سے پہلے امکانِ نبوت سے انکار کی وجہ سے کافر تھے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ایک شخص پہلے امکانِ نبوت سے انکار کی وجہ سے کافر ہو اور بعد میں نبوت کا دعویٰ کر کے مومن بلکہ نبی ہوجائے۔

تشریعی نبوت کا دعویٰ: اس قدر دعووں کے باوجود بھی مرزا کذاب سے صبر نہ ہوسکا تو آخرکار اُس نے تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ کردیا۔وہ لکھتا ہے، ’’میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی، اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے‘‘۔

’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے، فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا‘‘۔

’’آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم سے بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنانام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہوجائیں گے‘‘۔

قادیانی بھی مرزا کذاب کو حقیقی نبی جانتے ہیں۔محمود احمد قادیانی لکھتا ہے، ’’شریعتِ اسلام، نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت (مرزا) صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں‘‘۔

مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے، ’’غرض یہ کہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) اللّٰہ تعالیٰ کا ایک رسول اور نبی تھا، اور وہی نبی تھا جس کو نبی کریم نے نبی اللّٰہ کے نام سے پکارا‘‘۔

مرزا کے منکر کون؟ مرزا قادیانی اپنے منکروں کو کافر ومرتد قرار دیتا تھا۔چند حوالے ملاحظہ ہوں۔

’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ، وہ مسلمان نہیں‘‘۔

’’کفر دو قسم پر ہے۔ ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت کوخد کا رسول نہیں مانتا۔

دوسرا یہ کفر کہ وہ مسیح موعود (یعنی مرزا) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمامِ حجت کے جھوٹا جانتا ہے‘‘۔

مرزا کذاب کی تائید میں اس کا بیٹا مرزا بشیر قادیانی لکھتا ہے، ’’ ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا ، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up