Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 69 of 115

’’اس امت میں آنحضرت کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو اُمتی بھی ہے اور نبی بھی‘‘۔

ظلی اور بروزی نبوت کا دعویٰ: ظل کا معنی ہے ’’سایہ‘‘۔ اور بروز کا معنی ہے ’’نیا ظہور‘‘۔مرزا نے یہ دعویٰ کیا کہ میں حضرت محمد مصطفی کا ظل ہوں اور سایہ اپنی اصل سے جدا نہیں ہوتا اس لئے میرے نبی ہونے سے حضور  کے خاتم ہونے میں کچھ فرق نہیں آیا۔پھر اُس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ عین ذاتِ محمد کا نیا ظہور ہے۔ اس لئے اُس(مرزا) میں اور حضرت محمد میں کچھ فرق نہیں۔(معاذ اللہ)

’’میں رسول اور نبی ہوں، یعنی باعتبار ظلیتِ کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے، اور میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفی اور مجتبیٰ نہ رکھتا‘‘۔

’’میں بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت کا وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت  کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہرحال محمد ہی نبی رہے نہ اور کوئی۔ یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالاتِ محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینَۂ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا‘‘۔

’’اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس نام محمد اور احمد میں مسمیٰ ہو کر ،میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں‘‘۔

نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ: پھر آخر کار مرزا دجال نے کھلے لفظوں میں نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کردیا۔ ’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے لقب سے پکارا ہے‘‘۔

’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا‘‘۔

خدا تعالیٰ سچا ہے مگر خدا تعالیٰ پر بہتان باندھنے والا مرزا ضرورجھوٹا ہے۔ ’’میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کانام سرورِ انبیاء نے نبی اللّٰہ رکھا ہے‘‘۔

کوئی قادیانی یہ بتائے کہ کس حدیث میں سرورِ انبیاء نے مرزا کذاب کا نام ’’اللّٰہ کا نبی‘‘ بیان فرمایا ہے۔ خدا کی لعنت ہے جھوٹوں پر۔ ’’مگر بعد میں خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیاگیا۔ مگر اس طرح سے، ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی‘‘۔

’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت، انجیل اور قرآن پر‘‘۔

’’حق یہ ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں ، نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ‘‘۔

مذکورہ خود ساختہ وحی مراق کی بیماری کا کرشمہ ہے یا انگریز کی نمک حلالی کا۔ ’’خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں، اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو بھی اس سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں، نہیں مانتے‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up