الہام کی شرعی حیثیت: مرزا کذاب کے پاس خوداس کے محدَّث، مثیلِ مسیح، مسیح موعود اور نبوت کے دعوے پر نہ قرآن سے کوئی دلیل ہے نہ حدیث سے۔
اس کی بے بنیاد اور بے تکی قسم کی دلیلوں کو سن کر ہر صاحبِ عقل ودانش کو مرزا کے ذہنی مریض ہونے پر یقین ہوجاتا ہے۔مرزا کے پاس اپنی ہر گمراہی کی ایک ہی دلیل ہے وہ یہ کہ ’’مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا ہے‘‘۔ ذہن نشین رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ انبیاء کرام کو جو کلام عطا فرماتا ہے اسے وحی کہتے ہیں اور اولیاء کرام پر جو حقائق منکشف فرماتا ہے اسے الہام کہتے ہیں۔ وحی کاماننا فرض اور اس کا انکار کفر ہے جبکہ الہام کا ماننا دوسروں کے لئے ضروری نہیں۔وجہ یہی ہے کہ انبیاء کرام کے قلوب شیطان کے تصرف سے ہمیشہ محفوظ ہوتے ہیں جبکہ غیر انبیاء کے لئے ایسی کیفیت لازم نہیں۔
قرآن مجید میں ہے،
{وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِھِمْ}
’’اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں‘‘۔
یعنی شیاطین ان کے دلوں میں اِلقاء کرتے ہیں۔ علامہ عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،’’بیشک نبی کا الہام بصورتِ وحی ہوتا ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ اسے اپنے نور سے دکھا دیتا ہے۔
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰکَ اللّٰہُ}
’’تاکہ تم لوگوں میں فیصلے کرو جس طرح تمہیں اللّٰہ دکھائے‘‘۔
اور وہ (نبی کا الہام) اللّٰہ کی طرف سے اس کی امت کے لئے حجت ہوتا ہے جس کی اتباع امت پر واجب ہوتی ہے اس کے برخلاف اولیاء کرام کا الہام کسی دوسرے کے لئے حجت نہیں ہوتا‘‘۔
حضرت عمر کا ارشاد ہے کہ’’ ہرگز کوئی یہ نہ کہے کہ جو اللّٰہ نے مجھے دکھایا، اس پر میں نے فیصلہ کیا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ منصب خاص اپنے نبی کو عطا فرمایا‘‘۔
حضور کی رائے ہمیشہ صواب ہوتی ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے حقائق وحوادث آپ کے پیشِ نظر کردیئے ہیں اور دوسرے لوگوں کی رائے ظن کا مرتبہ رکھتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ مرزا کذاب کے الہامات شیطانی ہیں اور انہیں ماننا کفر وگمراہی۔
ختم نبوت کے معنی کی تحریف: ۱۸۹۹ ء تک مرزا نے خود کو بطور مصلح ، مجدد، محدَّث،مہدی، مثیلِ مسیح اور مسیح موعود کے پیش کیا پھر آہستہ آہستہ ختمِ نبوت کے معنی کی تحریف کرتے ہوئے اُمتی نبی، ظلی نبی اور بروزی نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔
مرزا لکھتا ہے، ’’اللّٰہ جل شانہٗ نے آنحضرت کو صاحبِ خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضۂ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اس وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا، یعنی آپ کی پیروی کمالاتِ نبوت بخشتی ہے اور آپ کی روحانی توجہ نبی تراش ہے، اور یہ قوتِ قدسیہ کسی اور کو نہیں ملی‘‘۔
’’جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں، مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداسے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اسی کا نام پاکر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے، رسول اور نبی ہوں، مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا، بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کہہ کے پکارا ہے، سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے کا انکار نہیں کرتا‘‘
’’اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں ، شریعت والا کوئی نبی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے آسکتا ہے مگر وہی جو پہلے اُمتی ہو۔ پس اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی‘‘۔

