Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 67 of 115

’’میرے لئے جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر وں اور اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں سے مل جاؤں‘‘۔

مجدد ہونے کا دعویٰ: مرزا نے ۱۸۷۹ء میں باطل مذاہب کی تردید اور اسلام کی حقانیت میں پچاس جلدوں پر مشتمل ایک کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ لکھنے کا اعلان کیا اور چندہ کی اپیل کی۔

اس پر لوگوں نے خوب چندہ دیا۔۱۸۸۴ء تک چار جلدیں شائع کر کے مرزا نے دعویٰ کیا کہ وہ اس صدی کا مجدد ہے۔ اس دوران مرزا نے آریہ سماج اور عیسائی پادریوں کے ساتھ مناظرے کر کے شہرت حاصل کی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ الہام اشاعتِ دین پر مامور ہونے کا دعویٰ کیا۔ مرزا قادیانی نے پہلے صرف یہ دعویٰ کیا کہ ’’خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے‘‘۔

ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی نے لکھا ہے، ’’اس دعوئ مجددیت کا اعلان خاص طور پر آپ نے ۱۸۸۵ ء کے شروع میں ایک اشتہار کے ذریعے کیا‘‘۔

محدَّث ہونے کا دعویٰ: پھر مرزا قادیانی نے کچھ ہی عرصہ میں محدَّث ہونے کا دعویٰ کیا اور لکھا، ’’نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدَثیت کا دعویٰ ہے جو خدائے تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے‘‘۔

محدَّث ہونے کا دعویٰ بھی دراصل مرزا کا دعویٰ ٔ نبوت کی سیڑھی پر پہلا قدم تھا۔

مہدی ہونے کا دعویٰ: پھر مرزا نے دو قدم آگے بڑھ کرامام مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیا،اور لکھا، ’’(امام مہدی) جس کی بشارت آج سے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم نے دی تھی، وہ میں ہی ہوں‘‘۔

مثیلِ مسیح ہونے کا دعویٰ: مرزا کذاب نے پہلے یہ پرچارکیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ پھر اس نے اپنے قریبی ساتھی حکیم نور الدین بھیروی کے مشورہ سے مثیلِ مسیح ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

۱۱ فروری ۱۸۹۱ ء کو ایک اشتہار کے ذریعے مرزا نے یہ اعلان کیا، ’’یہ بات سچ ہے کہ اللّٰہ جل شانہٗ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیلِ مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے‘‘ ۔

’’میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے، وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہا ہے کہ میں مثیلِ مسیح ہوں‘‘۔

مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ: اللّٰہ تعالیٰ نے چونکہ مرزا کا کذاب ہونا ثابت فرمانا تھا اس لئے مرزا ہر بار اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جاتا اور جھوٹ کی لعنت کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیتا۔ پہلے اس نے مسیحِ موعود ہونے کا انکار کیا تھا، پھراسی سال ۱۸۹۱ ء ہی میں کہتا ہے کہ احادیث میں جن مسیح موعود کے آنے کی خبر ہے، وہ میں ہی ہوں۔

’’مگر جب وقت آگیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے تب میں نے معلوم کرلیا کہ میرے اس دعوے مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں‘‘۔

’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیااور کئی مہینے بعد جو دس ماہ سے زیادہ نہیں، بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا، پس اس طور سے میں ابنِ مریم ٹھہرا‘‘۔

مسیحیت کی آڑ میں دعویٔ نبوت: ’’جس آنے والے مسیحِ موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا ان ہی حدیثوں سے یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہوگا اور امتی بھی‘‘۔

’’مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللّٰہ ہوگا یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا۔لیکن اس جگہ نبوتِ تامہ کاملہ مراد نہیں کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے‘‘۔ 

Share:
keyboard_arrow_up