Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 66 of 115

مرزا قادیانی کی اہلیہ نے اس کی موت کی تفصیل یوں بیان کی ہے، ’’حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب ضعف اس قدر تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اُٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔

حضرت صاحب کو اسہال کی شکایت اکثر ہوجایا کرتی تھی جس سے بعض اوقات بہت کمزوری ہو جاتی تھی۔اور آپ اسی بیماری سے فوت ہوئے‘‘۔

ان حوالوں سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ مرزا قادیانی کی موت ہیضہ سے ہوئی۔ اگرچہ مرزا کے گھر والوں کے مطابق وہ بستر کے پاس ہی پاخانہ کرتا رہا اور وہیں مرا جبکہ دیگر لوگ کہتے ہیں کہ مرزا پاخانے میں مرا۔

اب آپ چوہدری محمد اسماعیل قادیانی لاہوری کا بیان پڑھیے جو قادیانی جماعت لاہور کے اخبار ’’پیغامِ صلح‘‘ میں شائع ہوا۔

’’چند روز ہوئے مجھے ایک قادیانی بزرگ سے جو لاہور میں سکونت پذیر ہیں، لاہور سے باہر ایک جگہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اثنائے گفتگو میری زبان سے یہ نکل گیا کہ ’’خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم موت کے وقت بہت خوش تھے‘‘۔

وہ بزرگ جھٹ بول اُٹھے، ’’یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ محمود (یعنی میاں محمود احمد خلیفہ قادیان) کا دشمن موت کے وقت خوش ہو۔ موت کے وقت خواجہ (کمال الدین)کے منہ سے پاخانہ نکل رہا تھا‘‘۔

میں نے اس بزرگوار سے دریافت کیا کہ آپ نے خواجہ صاحب کو دیکھا؟ ارشاد ہوا، دیکھا تو نہیں مگر میں جو کہتا ہوں سچ ہے۔

میں نے آیت {وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ} کی طرف توجہ دلائی مگر بے سود۔ مجھے بہت تعجب ہوا۔ بالکل ایسے ہی الفاظ (کہ موت کے وقت منہ سے پاخانہ نکل رہا تھا)۔

مخالفین حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق کہتے ہیں اور لاکھ تردید کرو، نہیں مانتے‘‘۔

اللّٰہ تعالیٰ اپنے دشمن کے منہ سے ایسی باتیں کہلواتا ہے جو بعد میں اس کے لئے ذلت ورسوائی کاسبب بن جاتی ہیں۔

مرزا قادیانی کا یہ ارشاد اس کے اخبار میں چھپا، ’’جو شخص کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہوں، حالانکہ وہ نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے وہ بہت بری موت مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابلِ عبرت ہوتا ہے‘‘۔

چنانچہ مرزاجھوٹا ہونے کی وجہ سے ہیضہ میں ، پاخانے کی جگہ عبرتناک موت مرا۔

باب ششم مرزا کے دعوی ٔ نبوت کا سفر: چونکہ ہر نبی پیدائشی نبی اور عارفِ ربانی ہوتا ہے اس لئے امت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام نبوت کے اعلان سے قبل بھی گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔نیز نبوت کے اعلان سے قبل اور بعد،نبی کے عقائد ونظریات میں کوئی تضاد واقع نہیں ہوتا۔ مرزا قادیانی کی زندگی کا جائزہ لیجئے تووہ تضادات کا مجموعہ اور ایک عجیب معما نظر آتی ہے۔

جھوٹی نبوت کے اعلان سے قبل مرزا کے نظریات ختمِ نبوت کے بارے میں عام مسلمانوں ہی کی طرح تھے۔ان کی تحریریں اس پر گواہ ہیں۔

مثلاً: ’’آنحضرت نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اور حدیث {لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ} ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا ہر لفظ قطعی ہے، اپنی آیت {وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} سے اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی پر نبوت ختم ہوچکی ہے‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up