Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 65 of 115

’’آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم سے بند کیا گیا‘‘۔

کیا کوئی قادیانی بتا سکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا وہ کون سا حکم ہے جس کے ذریعے جہاد بند کیا گیا؟

مسلمانوں کی راہنما کتاب قرآن مجید کا حکم تو یہ ہے،

{وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ}

’’اور ان (کافروں)سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد باقی نہ رہے اور سارا دین اللّٰہ ہی کا ہو جائے‘‘۔

آقائے دوجہاں امام الانبیاء کا فرمانِ ذی شان ہے،

’’جو شخص اس حال میں مرا کہ نہ اس نے کبھی جہاد کیا اور نہ کبھی جہاد کی خواہش کا اظہار کیا، اس کی موت نفاق کی ایک قسم پر ہوئی ‘‘۔

آقا و مولیٰ کا ایک اور ارشادِ گرامی ہے،

’’یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اورمسلمانوں کاایک گروہ ہمیشہ دین کی خاطر جنگ کرتا رہے گا حتیٰ کہ قیامت قائم ہوجائے گی‘‘۔

اب انگریز کے پروردہ جھوٹے نبی کی کارگزاریاں بقلم خود ملاحظہ کیجیے۔ ’’بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔‘‘

جنگِ آزادی کے مجاہدین وشہداء کو حرامی اور بدکار کہنے والا آنجہانی مرزا خود یہ کہہ چکا ہے کہ:’’ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے‘‘۔

’’جب ہم ۱۸۵۷ ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتووں پر نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں جو انگریزوں کو قتل کرنا چاہیے تو ہم بحرِ ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے تھے جن میں نہ رحم تھا نہ عقل تھی نہ اخلاق نہ انصاف۔

ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا‘‘۔

افسوس کہ مرزا کو مسلمان مجاہدین تو چور اور حرامی نظر آئے اور کافر انگریز رحم، عقل، اخلاق اور انصاف والے!!!قادیانی سازش کا یہ پہلو بھی خاص توجہ کے لائق ہے، مرزا قادیانی، نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر کے نام ایک اشتہار میں لکھتا ہے، ’’میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے‘‘۔

خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی دین فروش، ملت فروش، وطن فروش، غیرت فروش، انگریز کاچاپلوس اور خوشامدی تھا۔

اسے ملکہ برطانیہ نے کوئی عزت کا خطاب تو نہ دیا البتہ اس کے پیروکاروں کو سرکاری عنایات اور ملازمتوں سے نوازا گیا۔ اسی لالچ میں کئی ضمیر فروش قادیانی ہوگئے۔

قادیانیت انگریز کا بویا ہوا فتنہ ہے جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں،یہ درحقیقت مفاد پرست گمراہ ٹولہ ہے۔

مرزا کی موت: مرزا کذاب منگل کے دن کو منحوس سمجھتا تھا۔ 

اور خدا کی قدرت کہ وہ منحوس کذاب منگل ہی کو فوت ہوا۔

مرزا نے اپنی زندگی میں ’’ہیضہ‘‘ کو خدا کی سزا اور عذابِ الٰہی قرار دیا تھا، آخر کار وہ خود ہیضہ(اسہال) میں مبتلا ہوا اور 26 مئی1908ء کو لاہور میں ذلت آمیز موت مرا اور قادیان میں دفن ہو کر واصلِ جہنم ہوا۔

مرزا کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے، ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو اپنی وفات سے قبل سالہا سال اسہال کا عارضہ تھا چنانچہ حضور اسی مرض سے فوت ہوئے‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up