Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 64 of 115

اس لئے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یاالٰہی! اس مبارک قیصرۂ ہند دام ملکہ کو دیر گاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ۔ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شاملِ حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔

میں نے تحفۂ قیصریہ میں جو حضور قیصرۂ ہند کی خدمت میں بھیجا گیا، یہی حالات اور خدمات اور دعوات گزارش کئے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاقِ وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں۔میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعاگو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمالِ اخلاص، خونِ دل سے لکھا گیاتھا، اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرۂ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا بلکہ ضرور آتا، ضرور آتا۔

اس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ جناب قیصرۂ ہند کے پُر رحمت اخلاق پر کمالِ وثوق سے حاصل ہے، اس یاد دہانی کے عریضے کو لکھنا پڑا۔ اور اس عریضے کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پُر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خیر اور عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرۂ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچا دے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے، اپنی پاک فراست سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کی رو سے مجھے پُر رحمت جواب سے ممنون فرما دیں اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ قیصرۂ ہند کی عالی خدمت میں اس خوشخبری کو پہنچانے کے لئے بھی مامور ہوں۔

اے قیصرہ مبارکہ! خدا تجھے سلامت رکھے، اور تیری عمر اور اقبال اور کامرانی سے ہمارے دلوں کو خوشی پہنچا دے، اس وقت تیرے عہدِ سلطنت میں جو نیک نیتی کے نور سے بھرا ہوا ہے۔

تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اٹھ رہے ہیں تاکہ تمام ملک کو رشکِ بہار بنا دیں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہدِ سلطنت کی قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں۔

چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے۔اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔

ہماری دن رات کی دعائیں آپ کے لئے آبِ رواں کی طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاستِ قہری کے نیچے ہوکر آپ کے مطیع ہیں بلکہ آپ کی انواع واقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ اے بابرکت قیصرۂ ہند! تجھے یہ عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس ملک پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے‘‘۔

یہ پوری کتاب مرزا اور قادیانیت پر ذلت و رسوائی کا بدنما داغ ہے۔کوئی مراثی بھی کسی بڑے آدمی کی اس قدر چاپلوسی نہیں کرسکتاچہ جائیکہ نبوت کا جھوٹادعویدار ۔مرزا کی تمام عمر یہ شدید خواہش رہی کہ اسے ملکہ برطانیہ کسی اعزاز سے نوازدے مگر افسوس،حالانکہ مرزا نے ایک بھکاری کی طرح یہ الہام بھی شائع کیامگر بے سود۔ ’’ایک عزت کا خطاب،لک خطاب العزۃ‘‘۔

انگریز ایجنٹ،جہاد کا دشمن: مرزا ’’ستارۂ قیصرہ‘‘ میں اپنا اصل کارنامہ یہ بتا چکا کہ اس نے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کا غلط خیال نکال دیا۔ وہ ایک اشتہار میں لکھتا ہے،

Share:
keyboard_arrow_up