Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 63 of 115

یہ کیسا ’’نبی‘‘ ہے جو کافروں کو اپنے وفادار وجاں نثار ہونے کا یقین دلا رہا ہے اور ان سے خاص عنایت اور خصوصی مہربانی کی بھیک مانگ رہا ہے۔نبی توہمیشہ اہلِ باطل کے مقابل سینہ سپر ہوتے اور صرف اللّٰہ قادرِ مطلق پر بھروسہ کرتے ہیں۔

یہ بناسپتی نبی مسلمانوں کے مقابل کافروں سے نہ صرف حفاظت کی بھیک مانگتا ہے بلکہ اقرار کرتا ہے، ’’اگر اس تلوارکی ہیبت نہ ہوتی جو سلطنت برطانیہ نے سونت رکھی ہے تو لوگ میرا خون کر دیتے‘‘۔

مرزانے قادیانیت کے پھلنے پھولنے کاراز خود یہ بتایا ہے،

’’اے بھائیو! جانو کہ ہم نے ملکہ وکٹوریہ کی حکومت کے سائے میں ظالموں کے ہاتھوں نجات پائی ہے۔ ہم اس حکومت کے سائے میں اس طرح سرسبز ہوتے ہیں جیسے زمین، موسمِ بہار میں سرسبز ہوتی ہے‘‘۔

مرزا بشیر الدین محمود قادیانی اپنے ایک خطبہ میں کہتا ہے، ’’فی الواقعہ گورنمنٹ برطانیہ ایک ڈھال ہے جس کے نیچے احمدی جماعت آگے ہی آگے بڑھتی جاتی ہے‘‘۔

کیا اب بھی کوئی قادیانی ، مرزا کذاب اوراپنے فرقے کے انگریز ایجنٹ ہونے کا انکار کرسکتا ہے؟

آج بھی اس کے خلیفہ لندن میں کس کے زیرِ سایہ ہیں؟نیز امریکہ اور یورپ میں کس کی شہ پر اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں؟

فرمانِ الٰہی ہے،

{بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمَانِ الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا}

’’خوشخبری دو منافقوں کو کہ اُن کے لئے دردناک عذاب ہے۔ وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں، کیا اُن کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں، تو عزت تو ساری اللّٰہ کے لئے ہے‘‘۔

مرزا کذاب نے برطانوی حکومت کی چاپلوسی میں ایک کتاب ’’کشف الغطاء‘‘ لکھی جس کے ٹائٹل پیج پر لکھا، ’’یہ مؤلف تاجِ عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ٔہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے باادب گزارش کرتا ہے کہ براہِ غریب پروری وکرم گستری اس رسالہ کو اول سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے‘‘۔

اسی طرح مرزا قادیانی نے 25مئی 1897ء کو برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر ملکہ کے نام ایک خط تحریر کیا جس میں مرزا نے خوشامد اور چاپلوسی کی انتہا کر دی۔

ہماری رائے کہاں تک درست ہے؟ آپ خود ہی فیصلہ کیجئے۔

’’یہ رسالہ مبارکہ جس میں حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ دام اقبالہا کی برکات کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ جناب ملکہ ممدوحہ کے عہدِ عدالت مہد میں اور ان کے نہایت روشن ستارہ کی تاثیر سے انواع واقسام کی زمینی اور آسمانی برکتیں ظہور میں آئی ہیں‘‘۔

’’سب سے پہلے یہ دعا ہے کہ خدائے قادرِ مطلق اس ہماری عالی جاہ قیصرۂ ہند کی عمر میں بہت بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاہ وجلال میں ترقی دے اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھ ٹھنڈی رکھے۔

مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی، وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اوراشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلادِ اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے۔جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔

یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان نہیں دکھلا سکا۔اور اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں، اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا کیونکہ مجھے اس بات کا قرار ہے کہ اس بابرکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں  نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تندور سے نجات پائی ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up