Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 62 of 115

حضرت ابوموسیٰ اشعری کا کاتب نصرانی تھا۔ امیر المؤمنین حضرت عمر  نے ان سے فرمایا،تمہیں نصرانی سے کیا واسطہ؟

کیا تم نے یہ آیت نہیں سنی؟پھر مذکورہ آیت تلاوت کی۔ انہوں نے عرض کیا، اُس کا دین اُس کے ساتھ، مجھے تو اس کی کتابت سے غرض ہے۔

امیر المؤمنین نے فرمایا، ’’اللّٰہ نے اُنہیں ذلیل کیا، تم اُنہیں عزت نہ دو۔ اللّٰہ نے اُنہیں دور کیا، تم اُنہیں قریب نہ کرو۔

‘‘ حضرت ابوموسیٰ نے عرض کیا کہ بغیر اس کے حکومتِ بصرہ کے کام چلانا دشوار ہے یعنی اس ضرورت سے مجبوری کی وجہ سے اسے رکھا ہے کہ اس قابلیت کا دوسرا آدمی مسلمانوں میں نہیں ملتا۔

حضرت امیر المؤمنین نے فرمایا،’’ نصرانی مرگیا، والسلام‘‘ ۔ یعنی فرض کرو کہ وہ مر گیا۔ اُس وقت جو انتظام کرو گے وہی اب کرو اور اس سے ہرگز کام نہ لو، یہ آخری بات ہے‘‘۔

جب عام مسلمان اس آیت پر عمل کرتے ہوئے یہود ونصاریٰ سے دوستی نہیں رکھتے تو اللّٰہ تعالیٰ کے سچے نبی، یہود ونصاریٰ کی دوستی سے کس قدر نفرت کرتے ہوں گے۔

اب انگریز کے پروردہ جھوٹے نبی کا حال ملاحظہ کیجئے۔

وہ لکھتا ہے، ’’بیس برس کی مدت سے، مَیں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کررہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گناہگار ہونگے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیرخواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں‘‘۔

’’میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اول درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اول درجہ کا بنا دیا ہے۔

اول: والد مرحوم کے اثر نے،

دوم: اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے، اور

سوم: خدا تعالیٰ کے الہام نے‘‘۔

ایک طرف قرآن عظیم اور احادیثِ مبارکہ کی تعلیم ہے کہ یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، دوسری طرف مرزا کذاب کے جھوٹے الہام ہیں کہ انگریزوں کے خیر خواہ اور جاں نثار بن جاؤ۔

مزید یہ کہ انگریز کو اپنی وفاداری کا یقین دلا نا ، ان کی چاپلوسی کرنا، کیا یہ کسی ’’نبی ‘‘ کا کردار ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔مرزا کے والد کا انگریزوں کا وفادار ہونا پہلے مذکور ہو چکا ۔ مرزا نے لکھا کہ: ’’وہ سرکار انگریزی کے ایسے خیرخواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ۱۸۵۷ء (یعنی جنگِ آزادی) میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔‘‘

مرزا کذاب نے انگریز کا خود کاشتہ پودا ہونے کا خود اقرار کیاہے،

’’سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔

اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے، اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔

ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اورجان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدماتِ گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں تاکہ ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up