Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 61 of 115

مرزا قادیانی کے غیر محرم عورتوں سے اختلاط کے متعلق سوال وجواب ملاحظہ ہو۔

’’سوال ششم: حضرت اقدس (مرزا) غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے تھے؟

جواب: وہ نبی معصوم ہیں،ان سے مَس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجبِ رحمت و برکات ہے‘‘۔

متعدد غیرمحرم عورتیں مرزا صاحب کی ذاتی خدمت پر مامور تھیں جو اُن کی خوابگاہ میں صبح تک ان کے احکام کی تعمیل کرتیں۔

ان میں سے چند کے نام یہ ہیں:

مسماۃ بھانو، زینب بیگم، رسول بی بی، اہلیہ بابو شاہ دین، مائی فجو، اہلیہ منشی محمد دین۔

’’ہمیں حضرت مسیح موعود(مرزا) پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے، ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے‘‘۔

کسی مسلمان کو گالی دینا اور اس پر لعنت کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں۔ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی گالیاں دینا، نیچ اورکمینے لوگوں کا کام ہے۔ اس نے لکھا، ’’ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے‘‘۔

اب مرزا کی چند گالیاں اور فحش زبانی ملاحظہ فرمائیے۔

’’سعد اللّٰہ لدھیانوی بے وقوفوں کا نطفہ اور کنجری کا بیٹا ہے۔بدگو، خبیث، مفسد، جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا اور منحوس ہے‘‘۔

’’خدا تعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگا دی۔‘‘

پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ  نے جب اس کی عربی گرائمر کی غلطیاں پکڑیں تو اس نے لکھا،’’کیوں وہ مقابل پر نہیں آتا اور لومڑی کی طرح بھاگتا پھرتا ہے۔

یہ صرف گونہہ کھانا ہے۔اے جاہل، بے حیا!… ‘‘

’’آریوں کا پرمیشور(خدا) ناف سے دس انگل نیچے ہے، سمجھنے والے سمجھ لیں‘‘۔

’’جھوٹے آدمی کی یہی نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف گزار مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تکو جہاں سے نکلے تھے، وہیں داخل ہوجاتے ہیں‘‘۔

 ایک جگہ مرزا قادیانی نے اپنے مخالفوں کے متعلق یہ کمینوں والا کام کیا، ’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں‘‘۔

اگرچہ مذکورہ اخلاق سوز تحریریں درج کرنا مناسب نہ تھا مگر صرف اس لئے ایسا کرنا پڑا تاکہ لوگوں پر انگریزی ’’نبی ‘‘کے اخلاق و کردار کا یہ پہلو بھی واضح ہوجائے۔

انگریز کا خود کاشتہ پودا: مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کا ایجنٹ تھا اور قادیانیت انگریز کا خودکاشتہ پودا۔ یہ محض الزام نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ ہم مرزا کذاب ہی کی چندکتب کے حوالوں سے ثابت کریں گے کہ مرزا قادیانی اور اس کے چیلے ہمیشہ سے انگریز کے وفادار تھے ، ہیں اور رہیں گے۔

پہلے فرمانِ الٰہی ملاحظہ کیجیے۔

{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآءَ م بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ}

’’اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔اور تم میں جو کوئی اُن سے دوستی رکھے گا تو وہ اُنہیں میں سے ہے۔ بیشک اللّٰہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا ‘‘۔

صدرُ الافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ اس کی تفسیر میں رقمطراز ہیں، ’’اس آیت میں یہود ونصاریٰ کے ساتھ دوستی وموالات یعنی ان کی مدد کرنا، ان سے مدد چاہنا، ان کے ساتھ محبت کے روابط رکھنا ممنوع فرمایا گیا۔

Share:
keyboard_arrow_up