Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 60 of 115

’’مالیخولیا خیالات وافکار کے طریقِ طبعی سے بخوف وفساد متغیر ہوجانے کو کہتے ہیں۔ بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے اُمور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے۔

اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں ۔‘‘

’’مریض اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو کبھی بادشاہ اور کبھی پیغمبر سمجھتا ہے‘‘۔

’’خیالات خام ہوجاتے ہیں، کوئی اپنے آپ کو بادشاہ، جرنیل قرار دیتا ہے۔ بعض پیغمبری کا دعویٰ کرتے اور اپنے اتفاقیہ صحیح واقعات کو معجزات قرار دیتے ہیں‘‘۔

اس تمام گفتگو کے خلاصہ کے طور پر ہم ڈاکٹر شاہنواز قادیانی کی رائے پیش کئے دیتے ہیں جس سے ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے۔

’’ایک مدعی ٔ الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہوجائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے‘‘۔

مرزا کی ادویات: مرزا قادیانی سے اس کے کسی دوست نے کہا کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے اس لئے افیون کھانا شروع کردو۔

اس پر مرزا نے جواب دیا، ’’اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی اور دوسرا افیونی۔ پس اس طرح جب میں نے خدا پر توکل کیا تو خدا نے مجھے ان خبیث چیزوں کا محتاج نہیں کیا‘‘۔

اس ناپاک قول میں مرزا ملعون نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شرابی کہا ہے۔ اس مردود نے اپنی متعدد کتب میں بیشمار جگہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شانِ اقدس میں گستاخیاں کی ہیں جن کا ذکر ہم آئندہ صفحات میں کریں گے۔

فی الحال یہ بتانا ضروری ہے کہ مرزا ملعون نہ صرف افیونی تھا بلکہ شرابی بھی، یعنی اسے اِن خبیث چیزوں سے بے حد رغبت تھی۔

حوالے ملاحظہ ہوں: میاں محمود احمد خلیفہ قادیان اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے، ’’حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک افیون نصف طب ہے۔ حضرت مسیح موعود نے تریاقِ الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا۔اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفۂ اول کو حضور (مرزا) چھ ماہ سے زائد دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے‘‘ ۔

حکیم محمد حسین قریشی (لاہور)کے نام ایک خط میں مرزا نے لکھا، ’’اس وقت یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خود خریددیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلو مر کی دکان سے خرید دیں، مگر ٹانک وائن چاہیے، اس کا لحاظ رہے‘‘۔

ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی معرفت لاہور میں پلومر کی دکان سے ٹانک وائن کی حقیقت معلوم کی گئی توجواب ملا:’’ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے ‘‘۔

سچ ہے کہ خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے ہی ہوتی ہیں۔

مرزا کا کیریکٹر اور گالیاں: ممکن ہے کہ کسی کی طبع نازک پرآنجہانی مرزاقادیانی کے لئے کذاب، ملعون اور خبیث جیسے الفاظ گراں گزرے ہوں۔ ویسے تو انبیاء کرام اور صحابہ واہلبیت کا گستاخ ملعون، مردود اور خبیث ہی ہوتا ہے اور نبوت کا جھوٹا مدعی کذاب۔ تاہم ان کی تسلی کی خاطر مرزا کے ذاتی اخلاق کے چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔ْ

Share:
keyboard_arrow_up