مرزا قادیانی مکتوباتِ احمدیہ ج۵ صفحہ ۲۱، مکتوب نمبر ۳ میں لکھتا ہے،
’’میرا حافظہ بہت خراب ہے۔اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاددہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کرسکتا‘‘۔
مرزا قادیانی کا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ اس کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں۔
’’ایک دفعہ حضرت مرزا صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی۔ آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا مگر وہ پھر اسی طرح بند ہو گئیں‘‘۔
مرزا کا بیٹا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے کہ ’’والدہ صاحبہ نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دورانِ سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔‘‘ جس میں مرزا صاحب چیخ مار کر زمین پر گر گئے اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔
’’والدہ صاحبہ فرماتی ہیں، اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنا شروع ہوگئے۔ خاکسار نے پوچھا، دوروں میں کیا ہوتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا،ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے خصوصاً گردن کے پٹھے، اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اُس وقت آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے پھر اس کے بعد کچھ دوروں کی ایسی سختی نہ رہی اور کچھ طبیعت عادی ہوگئی‘‘۔
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے‘‘۔
مرزا قادیانی کے دعویٔ نبوت کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ اسے ’’مراق‘‘ جیسا خطرناک دماغی مرض لاحق تھا۔طبی ماہرین کی تحقیق سے ثابت کریں گے کہ مراق کے مریض کا نبوت یا خدائی کادعویٰ کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ مرزا قادیانی نے اس خوف سے کہ مراق کی بیماری کو کوئی ان کی جھوٹی نبوت کی شان کے منافی نہ سمجھے، سب انبیاء پر مراق کی تہمت لگادی۔
بشیر احمد لکھتا ہے، ’’سیٹھ غلام نبی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن کا ذکر ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ا لاول نے حضرت مسیح موعود سے فرمایا کہ حضور! غلام نبی کو مراق ہے تو حضور (یعنی مرزا) نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے‘‘۔
ماہرِ طب ،حکیم برہان الدین نفیس ، مرض مراق کے متعلق لکھتے ہیں، ’’مالیخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں، یہ مرض تیز سودا سے جو معدہ میں پیدا ہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہوجاتا ہے ،اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں‘‘۔
ماہرینِ طب نے مراق کے مریض کی مندرجہ ذیل اہم علامات بتائی ہیں:
’’اس مرض میں مریض کے دماغی حواس درست نہیں رہتے۔ وہ ہر وقت سست، متفکر اور خودی کے خیالات میں مست کرہتا ہے‘‘
’’یہ ایک قسم کا مالخولیا ہے جس میں مریض کے افکار وخیالات حالتِ طبعی سے بدل جاتے ہیں اور بالعموم اس میں انانیت یعنی خودی اور تکبر اور تعلی یعنی اپنی بڑائی کے فاسد خیالات سما جاتے ہیں اور وہ ہر بات میں مبالغہ کرتا ہے‘‘۔
’’ مریض میں خودی کے خیالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ذرا سی بات یا تکلیف بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، ہر بات میں مبالغہ کرتا ہے‘‘۔
’’اگر مریض صاحبِ علم ہو تو پیغمبری اور معجزات وکرامات کا دعویٰ کرتا ہے، خدائی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے‘‘۔

