Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 58 of 115

اسی طرح کے بعض الہامات ملاحظہ فرمائیے۔

’’ایک دفعہ کشفی طور پر ۴۴ یا ۴۶ روپے دکھائے گئے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ماجھے خان کا بیٹا اور شمس الدین پٹواری ضلع لائلپور سے بھیجنے والے ہیں۔ چناچہ اس کے بعد کارڈ آیا جس میں لکھا تھا، ۴۰ روپے ماجھے خان کے بیٹے اور ۴ روپے پٹواری کی طرف سے ہیں‘‘۔

’’ایک دفعہ مجھے قطعی طور پر الہام ہوا کہ اکیس روپے آئیں گے، کم نہ زیادہ‘‘۔چنانچہ اکیس روپے آگئے۔

’’ایک دفعہ مجھے وحی آئی کہ عبداللہ خان ڈیرہ اسماعیل خان ۔ میں نے سب کو اطلاع دی کہ اس نام کے کسی شخص سے روپیہ آئے گا‘‘۔ علامہ سید محمود احمد رضوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، ان تمام الہامات سے ظاہر ہوا کہ مرزا جی نے نبوت کی دکان صرف اس لئے چمکائی تھی تاکہ روپوں کی بارش شروع ہوجائے یعنی ان کا دعویٔ نبوت کرنا صرف دنیا طلبی کے لئے تھا اور وہ اسی لئے نبی بنے تھے۔

پھر جس طرح بلی کو خواب میں چھچھڑے نظر آتے ہیں ٹھیک اسی طرح آپ کو بھی خواب روپوں پیسوں کے آتے تھے۔ چنانچہ مرزا جی فرماتے ہیں، ’’رویا میں دیکھا کہ ایک لفافہ ہے جس میں سے کچھ پیسے نکل کر باہر آگئے ہیں‘‘۔ ’’ رویا میں دیکھا کہ قدرت اللّٰہ کی بیوی روپوں کی ایک ڈھیری پیش کرتی ہے‘‘۔

’’عالم کشف میں دیکھا کہ آسمان سے ایک روپیہ اترا اور میرے ہاتھ پر رکھا گیا‘‘۔

پھر فرماتے ہیں، ہر شخص جانتا ہے جو میرے اُس زمانہ کا واقف ہے۔ مجھے فقط اپنے دسترخوان اور روٹی کی فکر تھی۔ مگر اب (یعنی بعد از دعویٔ نبوت) اس نے کئی لاکھ آدمیوں کو میرے دسترخوان پر روٹی کھلائی۔ ڈاک خانہ والوں سے پوچھو کہ کس قدر روپیہ اس نے بھیجا۔ میری دانست میں دس لاکھ سے کم نہیں۔ اے ایمان والو! کہو یہ معجزہ ہے یا نہیں‘‘۔

دیکھیے اس بیان میں مرزا جی نے خود اقرار کیا ہے کہ دعویٔ نبوت سے قبل مجھے اپنے دسترخوان کی فکر تھی، صرف اپنا پیٹ بھرنے میں مصروف رہتا تھا مگر جب سے میں نے نبوت کا دعویٰ کیا تو میری پانچوں انگلیاں گھی میں ڈوب گئیں جس سے یہ چیز بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ مرزا جی نے یہ ڈھونگ صرف حصولِ زر ولقمۂ تر  کے لئے رچایا تھا۔

مرزائیو! ذرا انصاف سے کہنا کہ حضور اکرم کے بھی ایسے ہی معجزے تھے اور کیا نبی علیہ السلام کو بھی دنیا اور روپوں کی لالچ تھی؟ یہ کیسی تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو مرزا جی مظہرِ صفاتِ محمدیہ ہونے کے دعویدار ہیں اور اپنے آپ کو حضور کا ظل وعکس قرار دیتے ہیں مگر دوسری طرف دنیا ہی کے طالب ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضورکی مقدس زندگی کے ساتھ مرزا جی جیسے لالچی اور دنیا پرست انسان کی زندگی کو ملانا بدترین گناہ ہے۔ کہاں مرزا جی اور کہاں خاتم المرسلین!‘‘

مرزا کی بیماریاں: مرزا قادیانی کو کون کون سے امراض لاحق تھے، وہ خود بتاتے ہیں، ’’ہمیشہ دردِ سر اور دورانِ سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔

بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے۔ اور اس قدر کثرتِ پیشاب سے جس قدر عوارضِ ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شاملِ حال رہتے ہیں‘‘۔

’’مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں‘‘۔

’’مجھے دو مرض دامن گیر ہیں، ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سر درد اور دورانِ سر (یعنی سر چکرانا)اور دورانِ خون کم ہو کر ہاتھ پیروں کا سرد ہوجانا، نبض کم ہوجانا اور دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں ہیں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا، یہ دونوں بیماریاں قریب تیس برس سے ہیں‘‘ ۔

Share:
keyboard_arrow_up