Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 57 of 115

’’میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب دربارِ گورنری میں کرسی نشین بھی تھے۔ اور سرکار انگریزی کے ایسے خیرخواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ۱۸۵۷ء (یعنی جنگِ آزادی) میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔

غرض ہماری ریاست کے ایام دن بدن زوال پذیر ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ آخری نوبت ہماری یہ تھی کہ ایک کم درجہ کے زمیندار کی طرح ہمارے خاندان کی حیثیت ہوگئی‘‘۔

خلاصہ یہ کہ اُس وقت مرزا قادیانی کی مالی اور سماجی حیثیت عبرت انگیز تھی۔وہ خود اپنی مالی اور سماجی حیثیت کے متعلق لکھتا ہے، ’’مجھے صرف اپنے دسترخوان اور روٹی کی فکر تھی‘‘۔

’’قادیان کے تمام لوگ اور دوسرے ہزارہا لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں درحقیقت مَیں اس مردہ کی طرح تھا جو قبر میں صدہا سال سے مدفون ہو اور کوئی نہ جانتا ہو کہ یہ قبر کس کی ہے۔‘‘

مسلمانوں کا شکاری: سادہ لوح مسلمانوں کا شکار کرکے ان کے ایمان کو مکر وفریب کی چھری سے ذبح کرنا مرزا قادیانی کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کیونکہ یہ جراثیم بچپن ہی سے اس کے دماغ میں موجود تھے۔

اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیجئے۔ مولوی محمد حسین بٹالوی اور مرزا قادیانی بٹالہ میں ہم سبق تھے۔ ایک مرتبہ مولوی محمد حسین، مرزا قادیانی اور چند لڑکے رات کے وقت قصبہ بٹالہ سے باہر کھیتوں میں قضائے حاجت کے لئے گئے۔ گرمی کا موسم تھا، جگنو اُڑ رہے تھے۔ ایک جگنو مرزا قادیانی کے گریبان میں آ گیا۔ مرزا صاحب نے اسے ہاتھ میں دبا لیا۔ جب سب لڑکے جمع ہوئے تو مرزا قادیانی نے ان سے کہا، ’’ دیکھو میرے پیرہن کے نیچے درخشاں چیز کیا ہے؟ اور کہا، اگر اسی طرح کوئی شعبدہ کیا جائے تو لوگوں کو پھانسا جا سکتا ہے یا نہیں؟‘‘۔

یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ مرزا کا ذہن اوائل عمر ہی سے شعبدے دکھا کر لوگوں کو پھانسنے کی طرف مائل تھا۔مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے، ’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ میں نے سنا کہ مرزا امام الدین (مرزا کا چچا زاد) اپنے مکان میں کسی کو مخاطب کر کے بلند آواز سے کہہ رہا تھا کہ بھئی لوگ (حضرت صاحب کی طرف اشارہ تھا) دوکانیں چلا کر نفع اُٹھا رہے ہیں، ہم بھی کوئی دوکان چلاتے ہیں۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر اس نے چُوہڑوں کی پیری کا سلسلہ جاری کیا ‘‘۔

معلوم ہوتا ہے کہ سارا خاندان ہی دھوکا دہی سے مال کمانے میں مصروف تھا۔مرزا کے اکثر خواب اور الہامات بھی مال ہی سے متعلق ہیں۔

وہ لکھتا ہے، ’’رویا کوئی شخص ہے اس سے میں کہتا ہوں کہ تم حساب کرلو مگر وہ نہیں کرتا۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے مٹھی بھر کر روپے مجھے دیے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص آیا جو الٰہی بخش کی طرح ہے مگر انسان نہیں فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دونوں ہاتھ روپوں کے بھر کر میری جھولی میں ڈال دیے تو وہ اس قدر ہو گئے کہ میں ان کو گن نہیں سکتا۔

پھر میں نے ان کا نام پوچھا تو اس نے کہا، میرا کوئی نام نہیں۔ دوبارہ دریافت کرنے پر کہا کہ میرا نام ہے ’’ٹیچی‘‘۔

غور طلب بات ہے کہ مرزا نے جب پہلی بار فرشتے سے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا ، میرا کوئی نام نہیں۔ جب دوبارہ نام پوچھا تو اس نے کہا، ٹیچی۔ گویا مرزا قادیانی کے فرشتے نے یا تو پہلی بار جھوٹ بولا یا دوسری بار۔

جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے اور فرشتے معصوم ہوتے ہیں۔ پس ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ مرزا قادیانی جھوٹا ہے۔ویسے تو’’ٹیچی ‘‘نام پر ہی غور کیا جائے تو حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up