پھر اسی کتاب میں مزید لکھا، ’’اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فنِ طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے‘‘۔
مرزا کے مذکورہ اقراری بیانات سے اس کایہ کہنا کہ میرا کوئی استاد نہیں، جھوٹ ثابت ہوگیا۔اب جھوٹے کے بارے میں مرزا قادیانی کا فیصلہ ملاحظہ کیجئے۔
’’ظاہر ہے کہ جب کوئی ایک بات میں جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔ ‘‘
’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں‘‘۔
’’اور محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں کو اپنا رسوخ جتانے کے لئے دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی اور یا یہ الہام ہوا، اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے، وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مرجاتا ہے‘‘۔
مرزا کذاب قادیانی نے یہ بات سچ کہی۔مرزائیوں کو چاہیے کہ تعصب چھوڑ کر مرزا کے الہامات کا جائزہ لیں اورمرزا کے اس ’’سچ ‘‘پر توجہ کریں۔
مرزا کی جوانی : مرزا کذاب نے جوانی میں کیا گل کھِلائے؟ مرزا بشیر احمدقادیانی لکھتا ہے،
’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانے میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پنشن مبلغ سات سو روپے وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کرلی تو آپ کو بہلا پھسلا کر اور دھوکا دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور اِدھر اُدھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اُڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور جگہ چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے گھر واپس نہیں آئے‘‘۔
یہ مرزا کی جوانی دیوانی کا واقعہ ہے۔ وہ بچے نہیں تھے کہ کوئی بہلا پھسلا کر کہیں لے جائے اور اُس زمانے میں ۷۰۰ روپے کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔ صاف سی بات ہے کہ مرزا نے وہ رقم عیاشی اور آوارگی میں لٹا دی،یہ ہے ’’انگریزی نبی‘‘ کی سیرت۔
غالباً ایسی ہی نازیبا حرکتوں کی بناء پر مرزا کو اس کے گھر والے طعنے دیا کرتے تھے۔ مرزا کا بیٹا مرزا محمود احمد قادیانی لکھتا ہے،
’’اور ایسا ہوا کہ ان دنوں میں آپ گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لئے قادیان سے باہر چلے گئے اور سیالکوٹ جا کر رہائش اختیار کرلی تو گزارہ کے لئے ضلع کچہری میں ملازمت بھی کرلی‘‘۔
مرزا قادیانی نے عام لوگوں کی طرح دنیاوی تعلیم کو ذریعۂ معاش بنایا اور چار سال ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں 15روپے ماہوار کی قلیل تنخواہ پر ملازمت کی۔مرزا کے بیٹے بشیر احمدکے بقول یہ’’ ملازمت ۱۸۶۴ ء تا ۱۸۶۸ ء کا واقعہ ہے‘‘۔
ملازمت کے دوران مرزا قادیانی نے ایک اسسٹنٹ سرجن سے انگریزی پڑھنا شروع کی۔مرزا بشیر احمد قادیانی اپنے والد کی قابلیت کے متعلق لکھتا ہے، ’’ڈاکٹر امیر شاہ صاحب استاد مقرر ہوئے۔ مرزا صاحب نے انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کردی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا، پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے‘‘۔
مرزا کو انگریزی پڑھ کر مختاری کے امتحان میں کامیابی تو نہ مل سکی البتہ یہ ضرور ہوا کہ اس کا فیل ہونا اس کے لئے قصرِ مسیحیت میں داخل ہونے کا زینہ بنا اور وہ انگریزوں کا خوشامدی اور مقرب بن گیا۔اور کیوں نہ بنتاکہ اس کے باپ دادا بھی توانگریزوں کے وفادار اور ملت کے غدار رہے تھے۔مرزا بقلم خودلکھتا ہے،

