’’بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھا لیتے مگر بارہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔ کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی پیر کی پشت پر آجاتی، اور کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی‘‘۔
’’نئی جوتی جب پاؤں کاٹتی تو جھٹ ایڑی بٹھا لیا کرتے تھے۔اور اسی سبب سے سیر کے وقت گرد اُڑ اُڑ کر پنڈلیوں پر پڑجایا کرتی تھی۔
حضور کبھی تیل سر مبارک پر لگاتے تو تیل والا ہاتھ سر مبارک اور داڑھی مبارک سے ہوتا ہوا بعض اوقات سینہ تک چلا جاتا جس سے قیمتی کوٹ پر دھبے پڑ جاتے‘‘۔
مرزا کا بیٹابشیر احمد اپنے والد کی مزید حماقتوں کا یوں ذکر کرتا ہے، ’’کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ، صدری، ٹوپی، عمامہ رات کو اُتار کرتکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے(جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں)، وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے مَلےجاتے‘‘۔
’’آپ (یعنی مرزا) کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول (پیشاب کی بیماری) بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے‘‘۔
شارح بخاری ، علامہ سید محمود احمد رضوی علیہ الرحمہ ایسے واقعات لکھ کر فرماتے ہیں،
آہ ! انسانیت کی بدقسمتی اور دین کی مظلومی!کہ جس ’’ذات شریف‘‘ کو دستر خوان پر بیٹھ کر روٹی کھانے، چابیاں سنبھالنے، اپنی شلوار کا ازار بند کھولنے، جراب اور جوتا پہننے، کاج میں بٹن دینے، استنجے کے ڈھیلے اور کھانے کے گڑ کو جدا جدا رکھنے حتیٰ کہ سیر کے وقت چلنے اور داڑھی مبارک کوتیل لگانے کی بھی تمیز نہیں، وہ دعوے کرتے ہیں تو صرف نبوت اور مسیحیت کے نہیں بلکہ افضل الانبیاء سے تختِ نبوت ورسالت اور سید المرسلین اسے تاجِ رشد وہدایت چھیننے کے۔
بادۂ عصیاں سے دامن تر بتر ہے شیخ کا پھر بھی دعویٰ ہے کہ اصلاحِ دوعالم ہم سے ہے
مرزا کی تعلیم اور اساتذہ: یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ کسی نبی کا اِس دنیا میں کوئی استاد نہیں ہوا۔ مرزا بھی یہ بات جانتا تھا اس لئے اُس نے مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش یوں کی، ’’سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا ، سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن وحدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔ پس یہی مہدویت ہے جو نبوتِ محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرارِ دین بلاواسطہ میرے پر کھولے گئے‘‘۔
مرزا کذاب کا یہ دعویٰ بھی اس کے جھوٹا ہونے کی ایک اور دلیل بن گیا۔وہ خود اپنی دینی تعلیم کے بعض اساتذہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے، ’’بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔ اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کانام فضل احمد تھا۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صَرف کی بعض کتابیں پڑھیں اور کچھ قواعدِ نحو اُن سے پڑھے، اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا، ان کا نام گل علی شاہ تھا۔
ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کرقادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ کے علومِ مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا ، حاصل کیا‘‘۔

