’’حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا‘‘۔ (معاذ اللہ)
’’بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے اور کسی پلیدی یا ناپاکی پر اطلاع پاوے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے الہامات دکھلائے گا جو متواتر ہونگے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ بن گیا ہے جو بمنزلہ اطفال اللّٰہ ہے‘‘۔
’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی ماہ بعد جو دس ماہ سے زیادہ نہیں، بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا، پس اس طور سے میں ابنِ مریم ٹھہرا‘‘۔
کیا احمقانہ گفتگو ہے یا پاگل پن ہے۔ لگتا ہے کوئی ذہنی مریض ہذیان بک رہا ہے۔ تعجب ہے اُن لوگوں پر جو ایسی خرافات کے باوجود اُسے مسیح موعود یا نبی سمجھتے ہیں۔
ابتدائی زندگی کے واقعات: انسان کا بچپن اس کی آئندہ زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔اسی لئے دانشمند لوگ کسی کا بچپن دیکھ کر اس کی صلاحیتوں کا اندازہ لگا لیا کرتے ہیں۔مرزا کے بچپن کی حرکتیں بھی نہایت عجیب وغریب تھیں۔ اسے بچپن میں چڑیوں کے شکار کا شوق تھا۔مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد اپنے والد کی سیرت کے متعلق لکھتا ہے، ’’والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت (یعنی مرزا) بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے‘‘۔
’’حضرت (مرزا)صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔میں گھر آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا، میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا‘‘۔
معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کو چوری کی عادت بچپن سے تھی جو بتدریج اس قدر بڑھی کہ وہ ختم نبوت کے محل میں ڈاکہ ڈالنے پر کمر بستہ ہوگیا۔ مرزا قادیانی کے دماغی خلل کا حال یہ تھا کہ نہ کپڑے پہننے کی تمیز تھی نہ موزے، اور نہ دائیں بائیں پاؤں کے جوتے کی شناخت کا سلیقہ۔
مرزا کا بیٹا لکھتا ہے، ’’آپ چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا اس لئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جائے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی‘‘۔
’’بعض دفعہ جب حضور(یعنی مرزا) جراب پہنتے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہوجاتی تھی، اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا، اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی جوتا ہدیہ لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں ‘‘۔
جلال الدین شمس قادیانی نے بھی یہی لکھا ہے کہ ’’دایاں پاؤں بائیں طرف کے بوٹ میں اور بایاں پاؤں دائیں طرف کے بوٹ میں پہن لیتے تھے۔ آخر اس غلطی سے بچنے کے لئے ایک طرف بوٹ پر سیاہی سے نشان لگانا پڑا‘‘۔

