تحذیر الناس کے حامی کہتے ہیں کہ اس عبارت میں ’’بالفرض‘‘ کے الفاظ ہیں لہٰذا یہ کفر نہیں۔میں اہلِ علم ودانش کو دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ وہ درج ذیل دونوں عبارات کے معنی ومفہوم میں فرق بتائیں۔
بالفرض بعد زمانہ ٔنبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو توبھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ بعد زمانہ ٔ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو توبھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔
ہر عقل مند یہی کہے گا کہ اس جملے میں ’’بالفرض‘‘لکھنا یا نہ لکھنا برابر ہے۔
اب میں مذکورہ عبارت کو مزید آسان کر کے آپ سے پوچھتا ہوں۔
اگر بالفرض کسی کی آنکھ پھوٹ جائے تو کیا اس کی بینائی میں فرق نہیں آئے گا؟ اگر بالفرض کسی کی ٹانگ ٹوٹ جائے توکیا اس کی چال میں فرق نہیں آئے گا؟ ہر ذی شعور یہی کہے گا کہ اگر بالفرض کسی کی آنکھ پھوٹ ہی جائے تو بینائی میں تو فرق آئے گا، اگر بالفرض کسی کی ٹانگ ٹوٹ ہی جائے تو پھر چال میں تو فرق آئے گا۔
پھر ماننا پڑے گا کہ اگر بالفرض بعد زمانہ ٔنبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمدی میں ضرورفرق آئے گا۔ قارئین خود
انصا ف فرمائیں کہ کیا خاتم الانبیاء کے زمانے میں یا آپ کے بعد کسی نئے نبی کی آمد فرض کر لینے سے ختمِ نبوت کے عقیدے پر ضرب نہیں پڑتی؟ کیا مرزا غلام احمد کذاب کے دعوی ٔنبوت کو مذکورہ عبارت میں بیان شدہ عقیدے سے تقویت نہیں پہنچتی؟ کیا مذکورہ نظریات کا قائل عقیدہ ختم نبوت کا منکر نہیں ؟؟؟
[اس مسئلہ کی مزیدتفصیل اور تحقیق آگے ایک باب میں ملاحظہ فرمائیے]
تعارف مرزا قادیانی: مرزا غلام احمد 1839ء میں انڈیا کے ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان میں پیدا ہوا۔والد کانام غلام مرتضیٰ اور والدہ کا نام چراغ بی بی عرف گھسیٹی۔مرزا قادیانی کی نسل اور خاندان کا خود اُسے بھی پتا نہیں تھا۔اس کے متضاد اقوال پڑھیے۔
مرزا کے ایک قول کے مطابق اس کا تعلق مغل قوم کی برلاس شاخ سے تھا اور اس کے آباء واجداد سمرقند سے آئے تھے۔
بعض احادیث میں فارسی النسل عالم کا ذکر آیا ہے جس سے مراد محدثین کے نزدیک امام اعظم ابوحنیفہ ہیں۔ مرزا نے اسے اپنے متعلق الہام بنا کر کہا، الہامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے آباء اولین فارسی تھے۔
ایک اور جگہ مرزا نے خود کو چینی النسل قرار دیا ہے۔
چونکہ احادیث میں امام مہدی کے سادات سے ہو نے کا ذکر ہے اس لئے مرزا نے ایک اور کتاب میں اپنی نسل سے متعلق یہ حیرت انگیز انکشاف کیا، ’’خدا نے مجھے یہ شرف بخشا ہے کہ میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی‘‘۔
پھر مزید کہا، ’’میں اگرچہ علو ی تو نہیں ہوں مگر بنی فاطمہ سے ہوں‘‘۔
مرزا نے ہندوؤں کے ساتھ اپنے تعلق کا یوں اظہار کیا،’’پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں، وہ کرشن میں ہی ہوں‘‘۔
مرزا کذاب نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے سکھ ہونے کا بھی اعلان کردیا، ’’۸ ستمبر ۱۹۰۶ ء بوقت فجر کئی الہام ہوئے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے، امین الملک جے سنگھ بہادر‘‘۔
خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی مغل برلاس ہے ، فارسی النسل، چینی النسل، اسرائیلی، فاطمی اور کرشن ہندو ہے اور امین الملک جے سنگھ بہادر بھی۔ ؎ ناطقہ سربگریباں ہے، اسے کیا کہیے مرزا کی نسل کی طرح اس کی جنس کا معاملہ بھی ایک معمے سے کم نہیں۔ کبھی وہ خود کو مرد جواں کہتا ہے اور کبھی نسوانیت کا دعویٰ کرنے لگتا ہے۔مرزا کا ایک مرید قاضی یار محمد ٹریکٹ نمبر ۳۴ موسومہ ’’اسلامی قربانی ‘‘میں لکھتا ہے،

